5 مارچ 2011
وقت اشاعت: 20:48
برازیل نے افغانستان میں امریکا کی مدد سے انکار کر دیا تھا،وکی لیکس
جنگ نیوز -
کراچی…وکی لیکس کا ڈھول اگرچہ کم بجنے لگا ہے لیکن حیران کن انکشاف کا سلسلہ پھر بھی رکنے کا نام نہیں لے رہا۔ برازیل نے دو ہزار نو میں امریکا کو واضح کردیا تھا کہ وہ افغانستان میں فوجی سطح پر واشنگٹن کی کوئی مدد نہیں کرسکتا۔تین دسمبر دو ہزار نو کو امریکی سفارتخانے کی ناظم الامور Lisa Kubiske نے ایشیاء نے برازیل کی وزارت خارجہ کے انڈر سیکریٹری Roberto Jaguaribe سے ملاقات کی تفصیل واشنگٹن کو لکھی۔ ملاقات میں یکم دسمبر دو ہزار نو کو صدر براک اوباما کی جانب سے افغانستان اور پاکستان کیلئے حکمت عملی کے اعلان کے بعد برازیل کے تعاون پر غور کیا گیا۔برازیل کے انڈر سیکریٹری رابرٹو کا امریکی ناظم الامور سے کہنا تھا کہ صدر لولا کی قیادت اوباما انتظامیہ کے نیک ارادوں پر یقین رکھتی ہے لیکن فوجی سطح پر افغانستان میں شمولیت کا کوئی امکان نہیں۔ انڈر سیکریٹری رابرٹو نے کہا کہ برازیل ، افغانستان میں تعمیر نو کے کام میں ہاتھ بٹانے کو تیار ہے۔ امریکی ناظم الامور نے واضح کیا کہ افغانستان میں عالمی فورسز کے قیام کا مقصد کچھ فتح کرنا نہیں بلکہ افغان عوام اور فورسز کو ملک کی باگ ڈور سنبھالنے کے قابل بنانا ہے۔ رابرٹو نے سراہتے ہوئے کہا کہ افغانستان کے حالات سے بھارت کے مفادات بھی بڑی حد تک جڑے ہیں جبکہ ایران کے بارے میں انھوں نے یہ رائے دی کہ تہران افغانستان کیلئے مددگار بھی ثابت ہوسکتا ہے اور نقصان دہ بھی تاہم پاکستان کے بارے میں انھوں نے کوئی ریمارکس نہیں دیے۔