29 مئی 2011
وقت اشاعت: 5:59
کشمیر کونسل ای یو نے کشمیر سے متعلق بھارتی وزیراعظم کابیان مسترد کر دیا
جنگ نیوز -
پیرس…رضا چوہدری /نمائندہ جنگ …کشمیرکونسل ای یو کے چیئرمین علی رضا سید نے مسئلہ کشمیرکے حل کے بارے میں بھارتی وزیراعظم من موہن سنگھ کے بیان کو سختی سے مسترد کیاہیجس میں انہوں نے کہاتھا کہ مسئلہ کشمیر بھارتی آئین کے اندر رہ کرحل کیاجائے گا۔ جنگ سے گفتگومیں علی رضاسید نے بھارتی وزیراعظم کے بیان پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ بھارت نے مسئلہ کشمیرکو منصفانہ طورپر حل نہ کرنے کی رٹ لگارکھی ہے اور بھارتی وزیراعظم کے بیان کا مقصد بھی یہی ہے کہ بھارت ہرگز کشمیریوں کوان کا حق خودارادیت دینے کے لیے تیارنہیں۔کشمیری گذشتہ چھ دہائیوں سے قربانیاں دے رہے ہیں اور اس حق کے لیے کوشاں ہیں جس کے متعلق ان سے بھارت نے وعدہ کیاتھا۔ تاریخ اس بات کی شاہدہے کہ سات اگست 1952ءء کو بھارت کے اس وقت کے وزیراعظم جوہرلال نہرونے بھارتی پارلیمنٹ میں کہاتھاکہ کشمیرکے مستقبل کا فیصلہ کشمیرکے عوام کی مرضی اورخواہش کے مطابق کیاجائے گا۔ علی رضاسیدنے کہاکہ تنازعہ کشمیرکو اسکے تاریخی تناظرمیں اور کشمیریوں کی خواہشات کے مطابق حل کیاجائے ورنہ کشمیری اپنے حق خودارادیت کے حصول تک اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔بھارت کو تاریخ سے سبق سیکھ لینا چاہیے کہ کوئی بھی کسی قوم کو طاقت کے ذریعے زیادہ دیر تک نہیں دباسکتا۔یہ بھارت کے لیے بھی بہتر ہے کہ کشمیرسے نکل جائے اور کشمیریوں کوآزادانہ طورپر اپنے مستقبل کافیصلہ کرنے کاموقع دے۔عالمی برادری کو دوہرا معیارترک کرناہوگا، یعنی کمزورکے لیے ایک معیار اور طاقتورکے لیے دوسرا، بلکہ کشمیریوں سمیت تمام کے ساتھ مساویانہ برتاؤ کیاجائے۔ کشمیریوں نے ابتک ایک لاکھ سے زائد جانوں کا نذرانہ پیش کیاہے اوربھارت قتل وغارت، آبروریزی اور تشددکے ذریعے کشمیرپر اپناقبضہ برقرارنہیں رکھ سکتا۔ انھوں نے عالمی برادری سے اپیل کی کہ مقبوضہ کشمیرکی صورتحال کا نوٹس لے جہاں گذشتہ آٹھ ماہ کے دوران چارہزار سے زائد کشمیریوں کوگرفتار کیاگیاہے تاکہ آزادی کے لیے بلند ہونے والی ان کی آوازکودبایاجاسکے۔ علی رضاسید نے کہاکہ آٹھ لاکھ بھارتی فوج آئے دن کشمیرمیں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں میں ملوث ہورہی ہے اور ہزاروں کی تعدادمیں کشمیری نوجوانوں کو ماورائے عدالت واقعات میں ماردیاگیاہے۔ گذشتہ ایک سال کے دوران بڑی تعدادمیں بے گناہ نوجوان بھارتی فوجیوں کے ہاتھو ں مارے گئے۔حالیہ سالوں کے دوران کشمیرمیں بے شمار بے نام قبریں دریافت ہوئی ہیں جن میں ہزاروں کی تعدادمیں بے گناہ مارے جانے والے کشمیری دفن ہیں جنھیں جعلی مقابلوں یا قید کے دوران شہید کردیاگیا۔ وادی کشمیرمیں کالے قوانین نافذ ہیں اور بہت بڑی تعدادمیں کشمیری تحریک آزادی کی پاداش میں جیل میں ہیں۔چیئرمین کشمیرکونسل ای یو نے مطالبہ کیا کہ بھارت اگر مسئلہ کشمیرکے پرامن حل میں سنجیدہ ہے تو وہ وادی کشمیرسے اپنی فوجیں واپس بلائے ، حریت پسند رہنماؤوں اور کارکنوں کو رہاکرے اور کالے قوانین ختم کرکے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں ملوث فوجیوں کو سزادے۔علی رضاسید نے اس بات کا اعادہ کیاہے کہ کشمیرکونسل ای یو اپنے کشمیری بہن بھائیوں کی آوازبین الاقوامی فورموں پر اٹھاتی رہے گی۔