29 مئی 2011
وقت اشاعت: 5:59
بلوچستان میں بہتری کیلئے حساس اداروں سے بات کی جائے، سپریم کورٹ
جنگ نیوز -
اسلام آباد…سپریم کورٹ نے بلوچستان میں امن و امان کے حالات کو تشویشناک قراردیتے ہوئے صوبائی حکومت کی رپورٹ ، وفاقی حکومت کو غورکیلئے بھیجنے اور مسئلہ کے حل کی خاطر صوبائی حکام کو حساس اداروں سے مل بیٹھ کر اقدام کرنے کی ہدایت کی ہے۔ چیف جسٹس افتخار محمدچودھری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے دو رکنی بنچ نے بلوچستان کے حالات سے متعلق صوبائی ہائی کورٹ بار کی درخواست پر سماعت کی ۔ چیف سیکرٹری نے رپورٹ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ وزیراعلیٰ بلوچستان جلد قبائلی جرگہ اور آل پارٹیز کانفرنس بلا رہے ہیں، امیدہے حالات بہترہوجائیں گے۔ صوبہ میں بلدیاتی انتخابات جلدکردیئے جائینگے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس میں کہا کہ بلوچستان میں حالات اتنے پریشان کن ہیں کہ مسخ شدہ لاشیں مل رہی ہیں، اسکولزمیں قومی ترانا بجانے سے روکا جارہا ہے۔بظاہر لگتا ہے کہ عوام کو آئین کے تحت حاصل جان و مال کا تحفظ نہیں دیا جارہا۔ عدالت نے چیف سیکریٹری کو حکم دیا کہ بلوچستان میں حالات کی بہتری کیلئے حساس اداروں سے بات کی جائے کیونکہ یہ ادارے بھی آئین اور عدالتوں کو جواب دہ ہیں، عدالت نے کہاہے کہ آئین پر عمل کرکے مسائل کا حل ڈھونڈا جائے کیونکہ گزشتہ63 سال سے ایسا نہیں ہورہا۔