تازہ ترین سرخیاں
 تازہ ترین خبریں 
29 مئی 2011
وقت اشاعت: 5:59

پاکستان کے اعتدال پسند ہونے کے قصے کو دفن کر دینا چاہیئے،امریکی اخبار

جنگ نیوز -
نیو یارک…فارن ڈیسک…امریکی اخبار ’وال اسٹریٹ جرنل‘ نے ایک مضمون میں کہا ہے کہ پاکستان کے اعتدال پسند ملک ہونے کے قصے کو دفن کردینا چاہیے۔اسلامی جماعتوں کا ووٹ بینک محدود ہے لیکن ملک کی بڑی سیاسی جماعتیں ان کے ہاتھوں یر غمال ہیں۔ حزب اختلاف کی اہم ترین جماعت مسلم لیگ نواز اسلام پرستوں کے نزدیک ہے، بظاہر سیکولر پیپلز پارٹی بنیاد پرستوں کے سامنے گائے بن گئی ہے۔زرداری ان کے خوف سے تاثیر اور شہباز بھٹی کی تدفین پر نہیں گئے جبکہ وزیر داخلہ رحمن ملک نے اعلان کیا کہ شان رسالت میں گستاخی کرنے والے کو وہ خود قتل کریں گے۔ اخبار لکھتا ہے کہ معتدل ملک سمجھا جانے والے پاکستان میں اسلامی بنیاد پرستی کے خاتمے کا آسان راستہ بھی ختم ہو گیا ہے۔ اعتدال پسند پاکستان کے قصے کہانیاں کو دفن کرنے کا وقت ہے ۔ سب جانتے ہیں کہ یہ نظریہ جو میگزین کے مضامین،تھنک ٹینک رپورٹیں اور امریکی کانگریس کے ثبوت کے طور پربار بار دہرایا جاتا ہے تاہم یہ سچ ہے کہ پاکستان لازمی طور متحمل ملک ہے لیکن سخت گیروں اور بنیاد پرستوں سے اسے خطرہ ہے۔ حال ہی میں اسلام آباد میں مشتبہ طالبان عسکریت پسندوں نے 42 سالہ پاکستان کے اقلیتی اموروزیر شہباز بھٹی گولی مار کر ہلاک کردیا تو یہ سب کے لیے خبر اہم ہے کہ یہ خطرہ بڑھ گیا ہے۔ پاکستان اپنے آپ کو ایک معتدل اور ماڈرن ملک کے طور پر پیش کرتا ہے ۔ پاکستان میں اسلامی جماعتوں کا ایک حصے کے ووٹ پر کنٹرول ہے ،سعودی عرب کے برعکس پاکستانی خواتین کو عوامی جگہوں پر جانے کی آزادی ہے اور ایران ابھی اسکے صرف خواب دیکھ سکتا ہے ۔پاکستان میں انسانی حقوق کے لیے آواز اٹھانے والوں ، دانشوروں اور سیاستدانوں کا ایک چھوٹا سا گروپ ضرور ہے جو تعصب اور مذہبی نارواداری کے خلاف عام طور پر بات کرتا ہے۔ یہ ٹھیک ہے کہ اسلامی جماعتوں کی بڑے پیمانے پر انتخابی حمایت نہیں لیکن ملک کی بڑی سیاسی پارٹیوں کی طرف سے اسلامی خیالات کو برداشت کیا جاتا ہے۔اہم اپوزیشن پارٹی پاکستان مسلم لیگ (ن) اسلام پسندوں کے قریب مانی جاتی ہے۔بظاہر سیکولر حکمران پاکستان پیپلز پارٹی ماضی میں کشمیری عسکریت پسندی اور افغان طالبان کی حمایت کرتی رہی۔اس کے موجودہ سربراہ بنیاد پرستوں کے سامنے مستقل گائے بنے دکھائی دیتے ہیں۔ صدر آصف علی زرداری تاثیر یا بھٹی کی تدفین میں شرکت کرنے میں ناکام رہے۔ ان کی حکومت یہ واضح اعلان کردیا کہ وہ ناموس رسالت کے قانون کو تبدیل نہیں کرے گی۔

متن لکھیں اور تلاش کریں
© sweb 2012 - All rights reserved.