29 مئی 2011
وقت اشاعت: 5:59
بلوچستان حکومت نے جرائم کی رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرادی
جنگ نیوز -
اسلام آباد…حکومت بلوچستان نے صوبے میں جرائم کی رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرادی ہے ، اس کے مطابق جنوری2010 سے فروری2011 تک ٹارگٹ کلنگ میں264 افراد مارے گئے ہیں ۔ حکومت بلوچستان کی طرف سے پیش کردہ یہ رپورٹ صوبے میں امن و امان سے متعلق مقدمہ میں پیش کی گئی ہے،، اس کے مطابق جنوری2010 سے فروری2011 تک نیٹوکنٹینرز پر72 حملے ہوئے ، جن میں172 کنٹینرز متاثر ہوئے،36 افراد مرے،25 زخمی ہوئے ، رپورٹ کے مطابق بلوچستان میں گزشتہ3 برس میں تاوان کے لئے147 افراد اغوا ہوئے، ان میں سے72 بازیاب کرائے گئے، اڑتالیس افراد کو تاوان دے کر اور22 کو قانون نافذ کرنے والے اداروں کے دباؤ پر رہائی ملی ۔ جنوری2010 سے فروری2011 تک3 خودکش حملے ہوئے ان میں1 اہلکار اور62 شہری مارے گئے ، صوبے میں2008 کو بجلی ٹاورز پر60 ، گیس لائنز پر52 اور ریل ٹریکس پر22 حملے ہوئے، سال2009 کو بجلی ٹاورز پر55 ، گیس لائنز پر59 اور ریل ٹریکس پر21 حملے ہوئے، میں2010 کو بجلی ٹاورز پر13 ، گیس لائنز پر7 اور ریل ٹریکس پر4 حملے کئے گئے ، رواں برس بجلی ٹاورز پر11 ، گیس لائنز پر30 اور ریل ٹریکس پر5 حملے ہوچکے ہیں ، رپورٹ کے مطابق بلوچستان میں اقلیتی افراد سمیت5 ہائی پروفائل اغوا واقعات ہوئے ، بلوچستان کے لاپتا123 افراد میں سے69 بازیاب ہوچکے ہیں ، صوبے میں123 مسخ شدہ لاشیں بھی ملیں ان میں سے25 کی شناخت کرلی گئی۔