29 مئی 2011
وقت اشاعت: 5:59
بیلجیم میں پیدا ہونیوالوں بچوں کے والدین کو ڈی پورٹ نہیں کیا جاسکتا
جنگ نیوز -
بیلجیممیں پیدا ہونیوالوں بچوں کے والدین کو ڈی پورٹ نہیں کیا جاسکتا
ڈیپورٹ کرنابچوں کے حقوق کیخلاف ورزی ہوگی،یورپی عدالت انصاف
برسلز…یورپی عدالت انصاف نے کہا ہے کہ یورپی ممالک میں پناہ کے خواہش مند ایسے افراد کو ڈی پورٹ نہیں کیا جاسکتا جن کے بچوں کے پاس بیلجیم کی قومیت ہو ۔یورپی عدالت انصاف نے یہ رولنگ برسلز لیبر کورٹ کے ایک سوال پر دی یہ معاملہ کولمبیا کے ایک شہری روئز زیمبرانو کے تنازع کی وجہ سے منظر عام پر آیا ۔ زیمبرانو1999 میں کولمبیا میں خانہ جنگی کی وجہ سے اپنی بیوی اور ایک بچے کے ساتھ بیلجیم آیا اور سیاسی پناہ کی درخواست کی ۔ اس کی درخواست مسترد کردی گئی اور ملک چھوڑنے کا حکم دیا گیا تاہم زیمبرانو واپس نہیں گیا اور مختلف نوکریاں کرتا رہا ۔ اس دوران اُس کے دو بچے ہوئے جنہیں بیلجیم کی قومیت مل گئی۔ جب زیمبرانو بے روزگار ہوا تو اس نے حکومت سے وظیفے کی درخواست کی لیکن یہ درخواست مسترد کردی گئی کیونکہ وہ قانونی طور پر بیلجیم میں مقیم نہیں تھا ۔ اس پر زیمبرانو نے لیبر کورٹ میں اپیل دائر کی جس نے اس معاملے پر رہنمائی کے لئے یورپی عدالت انصاف سے رجوع کیا ۔ یورپی عدالت کا کہنا تھا کہ یورپی یونین کے رُکن ممالک کو سیاسی پناہ کے خواہش مند کسی ایسے شخص کو ملک سے نکالنے کی اجازت نہیں ہے جس کے بچوں کے پاس بیلجیم کی قومیت ہو ۔ یورپی عدالت انصاف کا کہنا ہے کہ اگر بچوں کے والدین کو ملک سے نکالا گیا تو بچے بھی جائیں گے اور ایک یورپی شہری کی حیثیت سے یہ بچوں کے حقوق کی خلاف ورزی ہوگی ۔