29 مئی 2011
وقت اشاعت: 5:59
اسٹیل ملز کرپشن کیس: عبوری فرانزک آڈٹ رپورٹ ایک ماہ میں طلب
جنگ نیوز -
اسلام آباد...سپریم کورٹ نے اسٹیل ملز کرپشن کیس میں اسٹیل مل کی انتظامیہ سے عبوری فرانزک آڈٹ رپورٹ ایک ماہ میں طلب کرلی ہے ، چیف جسٹس افتخارچوہدری نے ریمارکس میں کہا ہے اسٹیل مل جیسے قومی ادارے کو نقصان اربوں روپے کا ہوا لیکن وصولی کروڑوں میں بتائی جارہی ہے ۔چیف جسٹس پاکستان جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے دو رکنی بنچ نے اسٹیل ملزمیں اربوں روپے کے کرپشن کیس کی سماعت کی ۔ ایف آئی اے کے آفیسر نے بتایا کہ8 ارب روپے ریکوریکیلئے فرانزک رپورٹ کا انتظار ہے ۔اسٹیل ملز کے وکیل فخر الدین جی ابراہیم نے کہا کہ مختلف ڈیلرز سے اڑھائی کروڑ روپے کی وصولی کی گئی ہے ، فرانزک آڈٹ رپورٹ میں ذمہ داری کا تعین ہوگا اس کے لیے تین ماہ کی مہلت دی جائے ۔ اس پر عدالت نے ایک ماہ میں عبوری رپورٹ داخل کرنے کا حکم دے دیا۔ وفاقی سیکریٹری صنعت نے عدالت کو بتایا کہ کم قیمت پر مال لینے والے مختلف کیٹگریز کے ڈیلرز کو ریکوری نوٹس جاری کردیے ہیں ،ان کا کہنا تھا کہ اسٹیل ملز کو مالی سال 2008-09 میں 526 ارب روپے کا خسارہ ہوا۔ گزشتہ مالی سال یہ خسارہ کم ہوکر گیارہ ارب روپے رہ گیا اور رواں مالی سال کے پہلے چھ ماہ میں پانچ ارب کا خسارہ ہوا ہے ۔ چیف جسٹس نے ریمارکس میں کہا کہ اسٹیل ملز کو جو نقصان ہوا اس کے ذمہ داروں کی نشاندہی کی جائے۔ بعد میں مقدمہ کی سماعت ایک ماہ کیلئے ملتوی کردی گئی۔