تازہ ترین سرخیاں
 تازہ ترین خبریں 
29 مئی 2011
وقت اشاعت: 5:59

ڈرون حملے:ہلاک ہونیوالوں میں اکثریت شدت پسندوں کی ہے،پاک فوج

جنگ نیوز -
میران شاہ....پاک فوج کا کہنا ہے کہ امریکی جاسوس طیاروں کے حملوں میں مارے جانیوالوں کی اکثریت القاعدہ اور طالبان کے شدت پسندوں کی ہے اور ان میں سے بیشتر غیر ملکی ہیں۔جنرل آفیسر کمانڈگ سیون ڈویژن میجر جنرل غیور محمود نے میران شاہ میں ایک بریفنگ میں بتایا کہ قبائلی علاقوں میں جاسوس طیاروں کے حملوں میں کچھ شہری بھی نشانہ بنے تاہم حقیقت یہ ہے کہ مارے جانیوالے افرادکی اکثریت القاعدہ اور طالبان سے تعلق رکھتی تھی۔میجر جنرل غیور کے مطابق دو ہزار سات سے دو ہزار گیارہ کے دوران جاسوس طیاروں کے ایک سو چونسٹھ حملوں میں نو سو چونسٹھ سے زیادہ شدت پسند مارے جاچکے ہیں۔ان میں سے ایک سو اکہتر کا تعلق عرب ملکوں ، ازبکستان، تاجکستان ، چیچنیا، فلپائن اور مراکش سے تھاجبکہ سات سو تیرانوے مقامی تھے۔پاک فوج کے مطابق دو ہزار سات میں ایک میزائل حملے میں ایک جنگجو مارا گیاتھا۔ دو ہزار آٹھ میں تیئس امریکی جاسوس طیاروں نے ایک سو باون جنگ جوؤں کو ٹھکانے لگایا،ان میں بارہ غیر ملکی یا القائدہ کے دہشت گردتھے۔دو ہزار نو میں تقریباً بیس ڈرون حملے کئے گئے ان میں بیس غیر ملکیوں سمیت ایک سو اناسی شدت پسند ہلاک ہوئے تھے جبکہ دو ہزار دس سب سے زیادہ ہلاکت خیز سال رہا ۔گزشتہ سال جاسوس طیاروں کے ایک سو تین حملوں میں چار سو تیئس سے زیادہ شدت پسند مارے گئے تھے ان میں ایک سو تینتیس غیر ملکی تھے۔جبکہ موجود سال میں مارچ کے پہلے ہفتے تک پانچ غیر ملکیوں سمیت انتالیس دہشتگرد امریکی جاسوس طیاروں کا نشانہ بنے۔میجر غیورنے اس بات کا اعتراف کیا کہ امریکی جاسوس طیاروں نے نہ صرف مقامی آبادی کو خوف زدہ کیا بلکہ لوگ اپنا گھر بار چھوڑنے پر بھی مجبور ہوئے۔ان کا کہناتھا کہ جاسوس طیاروں کے حملوں کی باز گشت نہ صرف سیاسی اور سماجی سطح پر سنائی دی بلکہ قانون نافذ کرنیوالی ایجنسیزنے بھی کئی بار اس کی تپش محسوس کی۔


متن لکھیں اور تلاش کریں
© sweb 2012 - All rights reserved.