تازہ ترین سرخیاں
 تازہ ترین خبریں 
29 مئی 2011
وقت اشاعت: 5:59

مغربی طاقتیں لیبیا کے تیل کے ذخائر پر قبضہ کرنا چاہتی ہیں، قذافی

جنگ نیوز -
قذافی لیبیا چھوڑدیں،امریکا ،جھڑپوں میں 400سے زائد افرادہلاک

طرابلس ... لیبیا میں سرکاری فورسزاور مخالفین کے درمیان جھڑپیں جاری ہیں،مشرقی علاقے میں اب تک چار سوسے زائد افراد ہلاک ہوچکے ہیں،معمر قذافی نے کہا ہے کہ مغربی طاقتیں شورش کو ہوا دے کر تیل کے ذخائر پر قبضہ کرنا چاہتی ہیں۔امریکا نے کرنل قذافی سے کہا ہے کہ وہ اقتدار اور لیبیا دونوں چھوڑدیں۔لیبیا کے رہنما کرنل معمر قذافی نے سرکاری ٹیلی وژن پر ایک بیان میں کہا کہ مغربی طاقتیں ایک سازش کے تحت لیبیا کے عوام کو غلامی میں دھکیل کرانھیں ذلت و خواری سے دوچار اور تیل کے ذخائر پر قبضہ کرنا چاہتی ہیں۔انھوں نے ایک بار پھر کہا کہ حالیہ شورش کے پس پشت القاعدہ کا ہاتھ ہے۔ راس لانوف میں تیل تنصیبات کے نزدیک فضائیہ کی شدید بم باری کا سلسلہ جاری ہے۔مخالفین کی جانب سے طیاروں کو نشانہ بنانے کے لیے راکٹ استعمال کیے جا رہے ہیں۔ لیبیا ئی فوج نے مخالفین کو نکالنے کے لیے الزاویہ کے مرکز پر بھی چڑھائی کی ہے۔الجواد اور بن جواد میں قذافی کے حامیوں اور مخالفین میں جھڑپیں جاری ہیں۔ میڈیل ذرائع کے مطابق بیس فروری سے اب تک مشرقی لیبیا میں چار سوسے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں،جن میں ساڑھے تین سو عام شہری تھے۔لیبیا میں حکومت کے حامیوں نے برطانوی نشریاتی ادارے کے تین صحافیوں کو حراست میں لے کر تشدد کا نشانہ بنایا۔اطلاعات کے مطابق لندن میں معمر قذافی کے بیٹے سیف الاسلام قذافی کے گھر پر ان کے مخالفین نے قبضہ کرلیا ہے۔لیبیا کی حکومت نے باغی رہنما مصطفیٰ الجلیل کی گرفتاری کے لیے چار لاکھ دس ہزار ڈالر انعام کا اعلان کیا ہے۔ادھر طرابلس میں نیشنل آئل کارپوریشن کے سربراہ ،شکری انم نے بتایا کہ شورش کی وجہ سے لیبیا کی تیل کی پیداوار ایک تہائی سے بھی کم یعنی سولہ لاکھ بیرل یومیہ سے گھٹ کر صرف پانچ لاکھ بیرل رہ گئی ہے ۔ایسے میں سعودی وزیر تیل علی النعیمی نے کہا ہے کہ لیبیا کی صوت حال کی وجہ سے عالمی منڈی میں تیل کی قلت نہیں پیدا ہوگی،ان کا کہنا تھا کہ تیل کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کا لیبیا کی صورت حال سے کوئی تعلق نہیں۔دوسری جانب عالمی ادارہ خوراک کا ایک جہاز آٹا اور دیگر امدادی سامان لے کر بن غازی پہنچ گیا ہے

متن لکھیں اور تلاش کریں
© sweb 2012 - All rights reserved.