29 مئی 2011
وقت اشاعت: 5:59
لیبیا کی فوج نے لڑائی کے بعد زاویہ کا کنٹرول سنبھال لیا
جنگ نیوز -
تریپولی…لیبیا کی فوج نے باغیوں کے ساتھ شدید لڑائی کے بعد زاویہ شہر ، الصدر پورٹ اور ایئرپورٹ کا کنٹرول حاصل کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ جبکہ راس لانوف اور بعض دیگر علاقوں میں فضائیہ کی بمباری جاری ہے۔دوسری طرف یورپی یونین نے لیبیا میں فوجی کارروائیکیلئے رکن ملکوں میں مکمل اتفاق رائے پیدا کرنے پر زور دیا ہے جبکہ فرانسیسی صدر سرکوزی نے مخصوص اہداف پر فضائی حملو ں کی تجویز دی ہے ۔الزاویہ میں فوج نے باغیوں کے خلاف ٹینکوں اور گولہ بارود کا استعمال کیا، راس لانوف، الصدر پورٹ میں بھی فوج نے بمباری کی۔ شہریوں کے مطابق بم اور میزائل آئل ریفائنری سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر گرے۔ سرکاری ٹی وی کے مطابق کئی علاقے باغیوں کے قبضے سے واپس لے لیے گئے ہیں جبکہ لیبیا نے مخالفین کی حکومت تسلیم کرنے پرفرانس سے سفارتی تعلقات منقطع کرنے پر غور شروع کر دیا ہے۔ادھر بن جواد میں شدید جھڑپ کے بعد قذافی کے حامی فوجی پسپا ہوگئے۔باغیوں نے سدرا، سترے، البریقہ اور راس لانوف پر قبضے کا دعویٰ کیا ہے۔ قذافی نے سفارتی کوششوں کیلئیاپنے سفیر یورپی ممالک روانہ کردیے ہیں۔ادھرلیبیا کی صورت حال کا جائزہ لینے کے لیے یورپی ممالک کے وزرائے خارجہ اور نیٹو وزرائے دفاع برسلزمیں جمع ہو گئے ہیں۔نیٹو کے سیکریٹری جنرل انڈرس فوگراسموسین کا کہنا ہے کہ لیبیا کے خلاف جنگی کارروائی کے لیے حملے کی ٹھوس وجہ اور قانونی تحفظ حاصل کرنے کے ساتھ علاقائی ملکوں کی حمایت حاصل کرنی ہوگی۔ فرانس اور جرمنی نے یورپی یونین پر زور دیا ہے کہ لیبیا میں حزب اختلاف کے رہ نماؤں سے مذاکرات کیے جائیں۔ نیٹو کے سیکریٹری جنرل انڈرس فوگراسموسین نے وزرائے دفاع کے اجلاس سے خطاب میں کہا کہ وقت آگیا ہے کہ لیبیا کے بحران پر توجہ دی جائے،اتحادی ممالک کو لیبیا میں کارروائی کیلئے تیار رہنا چاہیے جنرل انڈرس کا کہنا تھا کہمعمر قذافی کے خلاف کارروائی کے لیے قانونی جواز اور علاقائی حمایت ہونا ضروری ہے۔