29 مئی 2011
وقت اشاعت: 5:59
لیبیا: سرکاری فوج اور قذافی کے مخالفین کے درمیان لڑائی جاری
جنگ نیوز -
طرابلس ... لیبیا کے مختلف علاقوں میں سرکاری فوج اور قذافی کے مخالفین کے درمیان لڑائی جاری ہے،معمر قذافی کے بیٹے سیف الاسلام نے کہا ہے کہ مغربی طاقتوں کی مداخلت کے باوجود باغیوں کو کچل دیں گے، جبکہ ،برطانیہ اور فرانس نے کہا ہے کہ قذافی کو اقتدار چھوڑ کر جانا ہوگا۔یورپی یونین کے صدر کے نام ایک مشترکہ خط میں فرانسیسی صدر سرکوزی اور برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نے کہا کہ قذافی کو بالآخر اقتدار چھوڑ کر جانا ہوگا،انھوں نے یورپی یونین کو مشورہ دیا کہ وہ لیبیا کے باغیوں کی نیشنل کونسل سے مذاکرات کریں۔امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن نے لیبیا کے خلاف یک طرفہ امریکی کارروائی کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ اس اقدام کے نتائج کیا ہوں گے کچھ کہا نہیں جا سکتا، ایوان نمائندگان کی کمیٹی میں بیان دیتے ہو ئے ان کا کہنا تھا کہ امریکا چاہتا ہے کہ ایسے کسی بھی اقدام کے لیے دیگر ملکوں کی رضامندی بھی لی جائے۔ ہلیری کلنٹن نے کہا کہ دو ہزار تین میں مہلک ہتھیاروں کا پروگرام ترک کرنے کے باوجود قذافی کے پاس بدستور کچھ صلاحیت موجود ہے جو باعث تشویش ہے۔ وائٹ ہاؤس کے ترجمان نے کہا کہ امریکا لیبین نیشنل کونسل کے سینئر ارکان سے رابطے میں ہے۔برسلز میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے امریکی وزیر دفاع رابرٹ گیٹس نے کہا کہ نیٹو لیبیا میں کسی بھی فوجی کارروائی کے تمام امکانات پر غور کر رہا ہے۔لیبیا کے شہر الزاویہ میں باغیوں سے گھمسان کی لڑائی کے بعد فوج نے کنٹرول سنبھال لیا ہے، راس لانوف، الصدر پورٹ میں بھی بمباری کی گئی ۔ بن جواد میں شدید جھڑپ کے بعد قذافی کے حامی فوجی پسپا ہوگئے۔ باغیوں نے سدرا، سترے، البریقہ اور راس لانوف پر بھی قبضے کا دعویٰ کیا ہے۔ معمرقذافی کے بیٹے سیف الاسلام نے ایک انٹرویو میں مشرقی علاقوں میں لڑنے والوں کو خبردار کیا کہ ان سے کوئی بات نہیں کی جائے گی۔ان کاکہنا تھا کہ بغاوت مکمل طور پر کچل دی جائے گی۔ لیبیا نے مخالفین کی حکومت تسلیم کرنے پر فرانس سے سفارتی تعلقات منقطع کرنے پر غور شروع کر دیا ہے۔قذافی نے سفارتی کوششوں کے لیے اپنے سفیر یورپی ممالک روانہ کردیے ہیں۔نیٹو کے سیکریٹری جنرل کا کہنا ہے کہ لیبیا کے خلاف جنگی کارروائی کے لیے علاقائی ملکوں کی حمایت بھی حاصل کرنی ہوگی۔