29 مئی 2011
وقت اشاعت: 5:59
فیصلے پسند آئیں نہ آئیں عدالت کو ہرحال میں فرض ادا کرنا ہے، چیف جسٹس
جنگ نیوز -
اسلام آباد…سپریم کورٹ نے ڈی جی ایف آئی اے سمیت کنٹریکٹ کے سینئرپولیس افسروں کی برطرفی سے متعلق اپنے حکم کی پیروی پرآج ہی حکومت سے واضح جواب طلب کرلیاہے۔چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیئے ہیں کہ عدالت کو علم ہے کہ اس کے آزادانہ فیصلے پسند نہیں آتے کیونکہ کلچر بدل رہا ہے، تاہم عدالت کو اپنا فرض ادا کرنا ہے، خواہ کچھ بھی ہوجائیگا۔ چیف جسٹس افتخارچودھری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے لارجر بنچ نے حج اسکینڈل کیس کی سماعت کی ، سیکریٹری اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے بائیس وفاقی وزارتوں اور ماتحت مختلف محکموں میں اعلیٰ عہدوں پر کنٹریکٹ آفیسرز کی فہرست پیش کی جبکہ دیگر چوبیس محکموں کی فہرست پیش کرنے کیلئے مہلت مانگ لی ۔حج کیس میں ایف آئی اے نے بتایا کہ احمد فیض کا ہائرنگ کمیٹی کیلئے تقرر ، سابق وزیرحامدسعیدکاظمی نے کیا تھا جبکہ اسٹیٹ بینک نے17 افراد کے بینک اکاؤنٹس کی تفصیلات دے دی ہیں۔ چیف جسٹس نے ریمارکس میں کہا کہ حج اسکینڈل کیس کی تحقیقات میں پیش رفت نہیں ہورہی، ایف آئی اے پر دباؤ ہے ۔ ایڈیشنل ڈی جی ایف آئی اے نے بتایا کہ قانون کی پابندی کے باوجود سال2009 میں2 سو اور2010 میں248 افراد نے سرکاری خرچ پر حج کیاتھا ، اس پر جسٹس آصف کھوسہ نے کہا کہ جب قانون اجازت نہیں دیتا تو سرکاری خرچ پر حج اختیارات کا ناجائز استعمال ہے اور یہ جرم ہے۔