29 مئی 2011
وقت اشاعت: 5:59
جاپان میں قیامت خیز زلزلہ،ایک ہزار افراد کی ہلاکت کا خدشہ
جنگ نیوز -
ٹوکیو ... جاپان میں بدترین زلزلے اور سونامی کے بعد وزیراعظم ناؤتو کان نے زلزلہ زدہ نیوکلیئر پلانٹ سے تابکاری کے اخراج کا خدشہ ظاہر کیا ہے،زلزلے میں ایک ہزار افراد کی ہلاکت کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔فوکوشیما میں ڈیم ٹوٹنے سے متعدد مکانات بہہ گئے، دو مسافر ٹرینیں لاپتا ہوگئیں۔جاپان کے شمالی علاقوں میں آنے والے اس قیامت خیز زلزلے سے فوکوشیما دائچی کے نیوکلیئر پلانٹ کا کولنگ سسٹم خراب ہوگیا اور علاقے سے ہزاروں افراد کو انخلا کا حکم دے دیا گیا۔امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن نے کہا ہے کہ امریکا نے نیوکلیئر پلانٹ کے ری ایکٹر کولنٹ پہنچا دیا ہے۔ساحل کے قریب واقع سینڈائی شہر ریکٹر اسکیل پر 8.9 شدت کے جھٹکوں سے لرز اٹھا،دس میٹر تک بلند ہونے والی لہروں کی زد میں آکر سیکڑوں مکانات صفحہ ہستی سے مٹ گئے، پانی کا ریلا گاڑیوں اوربحری جہازوں کو بھی بہا لے گیا۔بڑی بڑی سڑکیں ملبے کا ڈھیر بن گئیں ، مسافروں سے بھری دو ٹرینیں اور ایک بحری جہاز لاپتا ہوگیا۔زلزلے کے بعد کئی صنعتی اداروں میں آگ بھڑک اٹھی اور مجبورا کام بند کردیا گیا ہے۔حکام نے زلزلے میں پانچ سو افراد کی ہلاکت کی تصدیق کردی ہے تاہم غیر سرکاری طور پر خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ ہلاک شدگان کی تعداد ایک ہزار سے زائد ہوسکتی ہے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے صدر نے کہا ہے کہ ادارہ جاپان کی مدد کے لیے ہر ممکن کوشش کرے گا۔اقوام متحدہ نے ایک بیان میں کہا کہ جاپانی حکومت نے متاثرہ علاقوں میں تلاشی کے لیے غیر ملکی ٹیموں کو آنے کی اجازت دے دی ہے۔امریکی بحریہ نے زلزلہ زدگان کی مدد کے لیے امدادی سامان جاپان پہنچانے کی تیاری شروع کردی ہے،جرمنی نے بھی امدادی ٹیم بھیج دی ہے۔ امریکی صدر بارک اوباما نے جاپانی زلزلہ زدگان کے لیے ایک دعائیہ تقریب میں شرکت کی۔رومن کیتھولک عیسائیوں کے رہنما پوپ بینی ڈکٹ نے بھی تعزیتی پیغام بھیجا ہے۔