29 مئی 2011
وقت اشاعت: 5:59
ٹارگٹ کلنگ اور دیگر مختلف واقعات میں بچے سمیت 12 افراد ہلاک
جنگ نیوز -
کراچی...صدر مملکت اور وزیر اعظم پاکستان کی کراچی میں موجودگی کے باوجود شہر کے مختلف علاقوں میں اچانک شروع ہونے والے دہشت گردی کے واقعات میں سیاسی کارکنوں سمیت12 افراد کو قتل کردیا گیا جس میں ایک بچہ بھی شامل ہے جبکہ سات زخمی ہو گئے۔ مشتعل افراد نے ایک تنظیم کا دفتر اور تین گاڑیاں نذر آتش کردیں۔ پولیس کے مطابق شہر کے مصروف ترین کاروباری علاقے کھاردار نامعلوم ملزمان نے ایک سیاسی جماعت کے کارکن خرم کو اس کی پان شاپ پر فائرنگ کرکے ہلاک کردیا۔ واقعہ کے بعد علاقے میں شدید فائرنگ کے بعد کشیدگی پھیل گئی اور مشتعل افراد نے ایک بس، ٹرک اور رکشہ کے علاوہ ایک مقامی تنظیم کے دفتر کو آگ لگا دی۔ گلستان جوہر میں جوہر چورنگی کے قریب نامعلوم افراد کی فائرنگ سے مصور بنگش اور سکندر چانڈیو ہلاک ہوگئے۔مقتول مصور پہلوان گوٹھ کا رہائشی تھا جس کے بھائی مصور چیف کو چند ہفتے قبل گرفتار کرلیا گیا تھا۔ اس کے بعد اسی علاقے میں مزید فائرنگ سے ایک سیاسی کارکن اسد خان ہلاک جبکہ تین افراد زخمی ہوگئے۔ گارڈن میں فائرنگ سے ہلاک کئے گئے دو نوجوانوں عدنان اور سمیع کی لاشیں ملیں، اورنگی ٹاون میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے ایک مذہبی کارکن خادم حسین ہلاک ہوگیا۔ ملیرمیمن گوٹھ اور سپر ہائی وے سے دو نوجوان کی لاشیں ملیں جنہیں فائرنگ کرکے ہلاک کیا گیا۔سائٹ ایریا میں مسلح افراد نے19 سالہ شمس کو قتل کردیا ۔ فائرنگ کا ایک اور واقعہ عزیز آباد مین پیش آیا جہاں مسلح موٹر سائیکل سواروں نے23 سالہ نعمان نامی نوجوان کو فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا ۔ بلدیہ ٹاؤن، غنی چورنگی اور کھارادر میں فائرنگ سے تین افراد زخمی ہوگئے۔ فائرنگ کے واقعات کے بعد ان علاقوں میں کشیدگی پھیل گئی اور پولیس اور رینجرزکا گشت شروع ہو گیا ۔تازہ ترین اطلاعات کے مطابق گلستان جوہرمیں ہونے والی فائرنگ کی زد میںآ کرزخمی ہونیوالا ایک بچہ بھی چل بسا ہے۔