تازہ ترین سرخیاں
 تازہ ترین خبریں 
29 مئی 2011
وقت اشاعت: 5:59

پاکستانی نوجوان جمہوری کے بجائے اسلامی انقلاب چاہتے ہیں، امریکی اخبار

جنگ نیوز -
نیو یارک…فارن ڈیسک… امریکی اخباروال اسٹریٹ جرنل نے اپنے ایک مضمون میں کہا ہے کہمصر کی طرح پاکستان کی آبادی کا 60 فیصدسے 25سال سے کم عمر کے نوجوانوں پر مشتمل ہے۔مصر کے برعکس پاکستانی نوجوان ایک جمہوری کی بجائے اسلامی انقلاب چاہتے ہیں ۔ اخبار کے مطابق آہستہ آہستہ امریکی پاکستان کے مسائل کو سمجھنے لگے ہیں کہ ایک جمہوری سیاسی نظام کی ترقی میں کیا رکاوٹ ہے۔ پاکستان کی سویلین قیادت کا خاتمہ، ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی ، بینظیر بھٹو ، تاثیر اور بھٹی کے قتل ، ملک میں افراتفری ، نسلی ، علاقائی کشیدگی کی وجوہ کیا ہے۔مضمون نگار کے مطابق امریکا کو سویلین بالادستی کی حمایت کرنی چاہیے ،سرد جنگ میں پاکستانی فوج کا امریکاکا ساتھ دینا اپنے ا سٹریٹجک مقاصد کیلئے تھا۔ بھارت کے ساتھ جنگوں کی مہم جوئی اور جوہری ہتھیاروں کی تعمیر سے امریکا کی طرف سے فوجی اور اقتصادی امداد معطل ہوگئی،لیکن 1979 میں افغانستان کے سوویت یونین کے حملے کے بعد پنٹاگون اور پاکستانی فوج کے اچھے تعلقات ہو گئے۔ اس وقت جنرل ضیاء نے واشنگٹن کی طرف سے بھاری رقوم حاصل کی ،لیکن 90کی دہائی پاکستان امریکا کے درمیان بدترین علیحدگی ہوگئی اور پاکستان کی امداد معطل کردی گئی۔ ضیا دور کے جنگجو اب پھل پھول چکے ہیں، اوراب وہ طالبان اور انتہا پسند لاہور اور کراچی کی گلیوں میں گھوم رہے ہیں ، پھر 11ستمبر کے واقعے کے بعد امریکا کوافغانستان میں پاکستان کی مدد کی ضرورت پڑی۔مضمون نگار نے پاک فوج کے خلاف زہر افشانی کرتے ہوئے لکھا کہ اسلامی قومیت کے نظریہ سے پاکستانی فوج نے بھرپور فائدہ اٹھایا ہے۔جس کی وجہ سے سویلین سیاستدانوں کو اپنے دفاع پر مجبور کیا گیا۔فوج جہادیوں اور لبرل سویلین سیاستدانوں کوخوفزدہ رکھتی ہے۔1947میں بھارت سے علیحدگی کے بعد پاکستان جمہوری اور آئینی اصلاحات میں ناکا م رہا۔ اس ناکامی کے فوری بعد فوج نے بھارت مخالف نظریات کے طور پر "قومی مفادات" کی وضاحت کی۔ اخبار کے مضمون نگار کا کہنا ہے کہ اپنے ہی محافظ کے ہاتھو ں پاکستان کے صوبہ پنجاب کے گورنر سلمان تاثیر کے قتل کے دو ماہ بعد اقلیتوں کے وزیر شہباز بھٹی کو قتل کردیا گیا۔سلمان تاثیر کے قتل نے ناموس رسالت کے قانون پر ایک بحث کا آغاز کردیا۔ اس صورت حال نے ایک سوال پیدا کردیا ہے کہ کیا پاکستان مستقبل کی ایک کامیاب ریاست ہے ۔ حکومت کی طرف سے بھٹی کی موت پر ردعمل نے بہت سے مسلمان اور عیسائیوں کو مشتعل کیا ہے، جیسا کہ سلمان تاثیر کے قتل کے بعد حکومت نے ایک غیر واضح موقف اپنایا۔اسلام آباد میں بھٹی کی تدفین پر وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے مجرموں کوانصاف کے کٹہرے میں لانے کیلئے پوری کوشش کا عزم کیا لیکن ان مجرموں کا کوئی ذکر نہیں کیا ،تاہم اس قتل کی تحریک پنجاب کے طالبان نے ذمہ داری قبول کی ہے۔

متن لکھیں اور تلاش کریں
© sweb 2012 - All rights reserved.