تازہ ترین سرخیاں
 تازہ ترین خبریں 
29 مئی 2011
وقت اشاعت: 5:59

روس و امریکا ایٹمی ہتھیاروں میں کمی کا ہدف ایشیائی ریاستیں ہیں،رپورٹ

جنگ نیوز -
ماسکو…فارن ڈیسک…امریکا اور روس کا نیوکلیئر ہتھیاروں کے معاہدے کا ہدف ایشیائی ریاستیں ہیں اور ان معاہدوں کے ذریعے چین کو ہتھیاروں کی کمی،شمالی کوریا کو مذاکرات اور ہندوپاک کو عدم پھیلاوٴ معاہدے پر دستخط کرنے پر مجبور کیاجائے گا۔ بر صغیر پر تین اہم جوہری طاقتیں بھی علاقائی سلامتی پر اثر ڈالتی ہیں۔یہ دوسرا ایٹمی دور تخفیف اسلحہ ، عدم پھیلاوٴ اور جوہری ہتھیاروں کے عدم استعمال کا ہوگا۔روسی خبر رساں ادرے’ریا نوسٹی‘ (RIA Novosti)کی رپورٹ کے مطابق "جوہری ہتھیاروں کے بغیر دنیا" دیکھنے کی کوشش میں روس اور امریکا کے درمیان ہتھیاروں کی کمی کی نئی حکمت عملی طے پا گئی اس معاہدے کی توثیق کے بعد ایشیا ء کو نیو کلیئر ہتھیاروں سے پاک کرنے کے معاہدے کو قبول کرنے پر مجبور کیا جائے گاجو جوہری اسٹریٹجک ماحول کو مزید پچیدہ بنا دے گی۔ روسی وزیر خارجہ سرگئی لاروف اور امریکی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن نے ہتھیاروں میں کمی سے متعلق نئے معاہدے New Strategic Arms Reduction Treaty (New START). کے معاہدے کی میونخ کانفرنس میں توثیق کی اوردستاویزات کا تبادلہ کیا۔اس کا مطلب یہ ہے کہ دو پرانے سرد جنگ کے سپر پاور اب ایٹمی ہتھیاروں سے مسلح ریاستوں کو تخفیف اسلحہ پر تیار کریں گی ۔امریکا اور روس کے معاہدے کا اگلا ہدف چین ہو سکتا ہے۔ شمالی کوریا کو مذاکرات کی میز لانے کی کوشش ہوگی۔ پاکستان اور بھارت کو از سر نو قائل کیا جائے گا کہ وہ دونوں ممالک عدم پھیلاوٴ Non-Proliferation Treaty (NPT) معاہدہ پر دستخط کردیں۔جوہری ہتھیاروں سے مسلح ایشیائی ریاستیں کس طرح امریکہ اور روس کے اس نیوکلیئر دوڑ سے باز آنے کے لیے نئے دباوٴ کا جواب دیں گی؟چین ایٹمی ہتھیاروں کی روسی اور امریکی جوہری کمی کے کنٹرول مذاکرات میں شامل ہونے کا عندیہ دے سکتا ہے۔ بیجنگ روس اور امریکہ کے جوہری فورسز کے ساتھ برابری کے اصول کے تحت شامل ہو جائے گا، یہ کہنا مشکل ہے کہ روس یا امریکہ بیجنگ کی حیثیت کو قبول کریں گے۔شمالی کوریا مذاکرات کی میز پر واپس آنے کی دلچسپی سوال ہے۔ اس کی ممکنہ ایٹمی صلاحیت بیجنگ ماسکو اور واشنگٹن کو خوفزدہ رکھیں گی۔

متن لکھیں اور تلاش کریں
© sweb 2012 - All rights reserved.