29 مئی 2011
وقت اشاعت: 5:59
حج اسکینڈل:سابق وزیر مملکت شگفتہ جمانی کیخلاف الزامات کا ریکارڈ پیش
جنگ نیوز -
اسلام آباد…حج اسکینڈل کیس میں سابق وزیرمملکت شگفتہ جمانی کیخلاف کمیشن لینے کے الزامات پر مبنی بیانات ،سپریم کورٹ میں پیش کردیئے گئے ہیں۔ چیف جسٹس افتخار چودھری نے کہا ہے کہ کنٹریکٹ افسروں سے متعلق عدالتی حکم پر پیروی ناہونے کی صورت میں تین دن کے بعد فیصلہ سنادیاجائیگا۔چیف جسٹس افتخار چودھری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے چار رکنی بنچ نے حج اسکینڈل کیس کی سماعت کی ، ایف آئی اے نے عدالت کو بتایا کہ راؤ شکیل نے بطور ڈی جی حج، ریکارڈ کو ٹمپر کیا تھا۔عدالت میں تین افرادکے ریکارڈکردہ بیانات بھی پیش کئے گئے، جن میں سابق سفیر علی شیرعمرزئی،حج ڈائریکٹوریٹ کے ملازم عابد منیر اور مڈل مین نصیر شامل ہیں ۔ نصیر کے مطابق دس ہزار حاجی بھیجنے کے معاہدہ میں شگفتہ جمانی کو فی حاجی25 ریال ملنے تھے، شگفتہ جمانی نے ایک عرب شخص ابراہیم بغدادی سے ملاقات کرکے کہاکہ انہیں طے شدہ ایک لاکھ ریال کی رقم نہیں ملی۔ مفت حج والوں سے متعلق پوچھنے پر ایف آئی اے نے بتایا کہ ان کو رہائش کا خط رحمن ملک کے پی ایس راجا جاوید کے کہنے پر لکھا گیا۔ جسٹس جاویداقبال نے کہاکہ سرکاری حج کرنیوالوں سے وصولی کی جائے تاکہ سرکاری حج کی روایت ختم ہو۔کنٹریکٹ افسروں کے مقدمہ سے متعلق ایک موقع پر چیف جسٹس نے کہاکہ تاثر مل رہا ہے کہ حکومت دلچسپی نہیں لے رہی۔