29 مئی 2011
وقت اشاعت: 5:59
لندن :عمران فاروق کے قتل کے دن کی فوٹیج اور تصاویر جاری
جنگ نیوز -
لندن . . . . . . لندن میں سراغ رسانوں نے ڈاکٹر عمران فاروق کے قتل کے دن ان کی فوٹیج اور تصاویر جاری کردی ہیں جو مختلف سی سی ٹی وی کیمروں کی مدد سے حاصل کی گئیں۔ سراغ رسانوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ قتل سے پہلے عمران فاروق کی نگرانی کی جا رہی تھی۔ لندن میں ڈاکٹر عمران فاروق کے قتل کی تحقیقات کرنے والے سراغ رسانوں نے قتل کے شواہد پر مشتمل اہم فوٹیج اور تصاویر جاری کردی ہیں۔ لندن کے وقت کے مطابق صبح گیارہ بج کر24 منٹ پر وہ ایجوئر کے زیرِزمین اسٹیشن کے باہر اور پھر اسٹیشن کے اندر چلتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ کچھ لمحوں میں وہ اسٹیشن کے اندر ٹکٹ بیرئر سے اندر جاتے دکھائی دیتے ہیں۔ بارہ بج کر6 منٹ پر وہ اولڈ اسٹریٹ کی سپر مارکیٹ میں داخل ہوتے ہیں۔ اس کے بعد انھیں اسی سپر اسٹور میں دیکھا جا سکتا ہے۔ اس کے بعد وہ اسٹور سے باہر نکل گئے اور شام پانچ بج کر12 منٹ پر ایجوئر میں زیرِ زمین ٹیوب سے نکلتے دکھائی دیتے ہیں۔ ایک منٹ بعد وہ ایجوئر اسٹیشن سے باہر نکلتے ہیں اور مزید ایک منٹ بعد وہ ایجوئر کی اسٹیشن روڈ پر چلتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ دس منٹ کی واک کے بعد انھیں آخری مرتبہ شام پانچ بج کر24 منٹ پر اسٹیشن روڈ پر چلتے ہوئے دیکھا گیا،اس تصویر کے ٹھیک دس منٹ بعد ان پر ان کے گھر کے قریب حملہ کیا گیا، حملے کے لیے جو چاقو استعمال کیے گئے، یہ چاقو ان کا نمونہ ہیں۔ باورچی خانے میں استعمال کیے جانے والے یہ چاقو تقریباً دس انچ لمبے اور بظاہر کافی تیز دھار ہیں۔ملزم کا خاکہ جو پولیس پہلے ہی جاری کرچکی ہے۔ سراغ رسانوں نے یہ تصاویر جاری کرتے ہوئے شبہ ظاہر کیا ہے کہ ڈاکٹر عمران فاروق کے گھر سے نکلنے اور دوبارہ گھر جاتے وقت کچھ لوگ ان کی نگرانی کر رہے تھے۔ ان کے مطابق اس نگرانی میں تقریباً چار ایشیائی افراد ملوث ہوسکتے ہیں جنہوں نے کسی گاڑی پر یا پیدل ہی ڈاکٹر عمران فاروق کی نگرانی کی۔