29 مئی 2011
وقت اشاعت: 5:59
ملاوی کے نوجوان لڑکے نے ناکارہ اشیاء سے پون چکی تیار کرلی
جنگ نیوز -
لی لونگوی…افریقہ کے قحط زدہ ملک ملاوی سے تعلق رکھنے والے 14سال نوجوان لڑکےWilliam Kamkwambaکواسکول کی فیس نہ جمع کروانے پر اسکول سے تو نکال دیا گیا تاہم اس کے ذہین دماغ سے ذہانت کو کوئی نہیں نکال سکا۔کوامبا(Kamkwamba )کا شہرزندگی کی چھوٹی بڑی سہولیات سے یکسر محروم تھا لیکن ایک وسیلہ باآسانی اور بہت فراوانی کے ساتھ موجود تھا اور وہ تھی قدرتی ہوا۔ 14 سالہ اس لڑکے نے اس قدرتی نعمت کے واحد وسیلے کو استعمال کرنے کی ٹھان لی اور پَوَن چکی (Windmill)تیار کرنے کا بیڑا اُٹھا لیا۔Kamkwambaنامی اس بچے نے بائے سائیکل کے ناکارہ پُرزہ جات،ٹریکٹر کے پنکھے کے بلیڈزاور پلاسٹک پائپ کو پگھلا کر تیار کیے گئے بلیڈز کی مدد سے پَون چکی بنانا شروع کی جس کا ٹاور بنانے کے لیے اس نے مخصوص درخت کی لکڑی استعمال کی ۔12واٹ توانائی پیدا کرنے والی یہ پَون چکی ناصرف اب Kamkwambaکے مٹی سے بنی گھر میں بجلی کی سہولت پیدا کرنے کا ذریعہ بن رہی ہے بلکہ اس کی بنائی گئی دیگر پون چکیاں علاقے بھر کو روشن کررہی ہیں۔2002 میں اس کام کا آغاز کرنے والے اس لڑکے کے پاس اب پانچ پَوَن چکیاں ہیں جن میں سب سے بڑی37 فٹ لمبی ہے جبکہ ایک پَوَن چکی اُس نے اپنے اسکول کے احاطے میں بھی تعمیر کی ہے۔یہ پَوَن چکیاں ناصرف بجلی پیدا کرتی ہیں بلکہ اس کے آبائی شہر کوپانی بھی پہنچاتی ہیں جبکہ آس پاس کے شہری اس کے گھر آکر روزانہ اپنے موبائل فون چارج کرتے ہیں اور اپنے پسند کے گانے ریڈیو پر بھی سُنتے ہیں۔چودہ سال کی عمر میں اتنا بڑا کام کرنے والا بچہ آج 22 سالہ جوانی کی دہلیز پر آپہنچا ہے اورزعماء کے لیے مختص افریقن لیڈر شپ اکیڈمی میں تعلیم حاصل کر رہا ہے جس کا خرچہ اس اکیڈمی کے ڈونرز اُٹھا رہے ہیں۔