29 مئی 2011
وقت اشاعت: 5:59
ریمنڈ ڈیوس کی رہائی نے پاکستان میں امریکا مخالف جذبات کو ہوا دیدی
جنگ نیوز -
نیو یارک…فارن ڈیسک…ریمنڈ ڈیوس کی کہانی کے اختتام نے پاکستان میں انتہا پسندوں اور امریکہ مخالف گروپوں کو اشتعال دلا دیا ہے۔ڈیوس کے واقعے سے ایک بدقسمتی سفارتی مثال پیدا ہو گئی ہے۔ پاکستان میں اصل طاقت کا سرچشمہ سیکورٹی اسٹیبلشمنٹ ہے۔ جس کے ڈیوس کے کیس میں ذاتی مفادات تھے۔گزشتہ دو سالوں میں اسلام آباد نے پاکستان کے قبائلی مغربی علاقوں میں عسکریت پسندوں کے خلاف امریکی ڈرون حملوں اوردیگر خفیہ آپریشن میں مدد کی۔ امریکی اخبار’وال اسٹریٹ جرنل‘ کی رپورٹ کے مطابق سات جذباتی ہفتوں کی یہ کہانی کا انجام اچھا ہو ا ہے۔پاکستانی سیاستدانوں کو ڈیوس کے مسئلے پر ملک کی اندرونی سیاسی طوفان اورامریکا کے ساتھ تعلقات میں ایک اہم بحران کا سامنا تھا،آخر کار ان کو سکھ کا سانس ملا۔ مقتولین کے خاندانوں کو 2.3 ملین ڈالر کی دیت کی ادائیگی کے بعد فوجی اور سویلین حکام ڈیوس کو رہا کرنے پر راضی ہو گئے۔27 جنوری کو ڈیوس نے موٹر سائیکلوں پر سوار دو مسلح پاکستانیوں کو گولی سے مار ڈالا۔اس نے کہا کہ ڈاکوں کے خلاف اپنے دفاع میں کارروائی کی ،دیگر حکام سے یہ بات بھی سنی گئی کہ مقتولین طاقتور فوجی جاسوس ایجنسی کی طرف سے ڈیوس کا پیچھا کرنے کے لیے لگائے گئے تھے۔ویانا کنونشن کے تحت ڈیوس کے لیے کوشش نہیں کی گئی لیکن پاکستان میں کمزور سویلین حکومت فوری طور پر عوام کے غم و غصہ کی وجہ سے اس کے سفارتی استثنیٰ کی تصدیق نہیں کرسکی۔اسلام آباد میں امریکی سفارت خانے نے بھی ڈیوس کے کام کی حیثیت کے بارے میں متضاد بیانات جاری کئے ہیں۔ جیسا کہ امریکا نے بعد میں تسلیم کیا سابق آرمی اسپیشل فورسز کا فوجی کاتعلق سی آئی اے کے ساتھ ہے جو پاکستان میں عسکریت پسندوں اور لشکر طیبہ پر نظر رکھے ہوئے تھا۔ اخبار کے مطابق پاکستانی امریکہ اور انتہا پسندوں کی حمایت کر کے کافی عرصہ تک ڈبل گیم کھیل چکے ہیں ۔