29 مئی 2011
وقت اشاعت: 5:59
کرنل قذافی کو فضائی حملوں سے روکنا پیچیدہ کام ہے، فوجی ماہرین
جنگ نیوز -
نیویارک …سلامتی کونسل نے لیبیاکی فضائی حدود پر پابندی لگانے کی منظوری دے دی جس کا مقصد کرنل قدافی کی فوج کو ملک کے مختلف حصوں میں باغیوں پر فضائی حملوں سے روکنا ہے۔تاہم فوجی ماہرین کی رائے میں یہ کام نہ صرف پیچیدہ ہے بلکہ اس میں کئی دن بھی لگ سکتے ہیں۔نو فلائی زون سے مرادایسا علاقہ ہے جس پر مخصوص قسم کے طیارے ،خاص طور پرفوجی طیارے اڑانے کی اجازت نہیں ہوتی۔ لیبیاکیخلاف سخت فوجی ایکشن لینے کا خواہش مند فرانس جلد سے جلدکارروائی چاہتا ہے۔امریکی فضائیہ کے چیف آف جنرل اسٹاف نارٹن شوارٹز کے مطابق کارروائی شروع کرنے میں ہفتے سے زیادہ بھی لگ سکتاہے۔فوجی کارروائی میں امریکا کی براہ راست شرکت نہ کرنے کی صورت میں فرانس اور برطانیہ محدود سطح پر نو فلائی زون تشکیل دیں گے۔اس سلسلے میں نیٹو ممالک کی جانب سے اٹلی میں ہوائی اڈوں کے استعمال کی اجازت بھی مانگی جاسکتی ہے۔ اٹلی کی حکومت اس سلسلے میں پہلے ہی رضامندی دے چکی ہے۔فوجی کارروائی میں شرکت کا فیصلہ امریکاکیلئے آسان نہیں ہوگا۔ فوجی کارروائی میں حصہ لینے کی صورت میں امریکاکے بمباراور لڑاکا ایف16، ایف15اور ایف22لڑاکا اور بمبار طیارے حصہ لیں گے۔تاہم ماہرین اس کارروائی کی مکمل کامیابی کے بارے میں شش و پنج کا شکار بھی ہیں۔ انکے مطابق قذافی کی زمینی افواج نے باغیوں کیخلاف بھرپور کارروائی کی ہے اور انہیں پسپا ہونے پر مجبور کر دیا۔ اس لئے یہ بات خارج از امکان نہیں کہ نیٹو کے فضائی حملے زمین پر موجود لوگوں کی حفاظت میں پوری طرح کامیاب ہوسکیں۔