29 مئی 2011
وقت اشاعت: 5:59
عوام کیخلاف حملے بند نہ کرنے پر قذافی کو فوجی کارروائی کی دھمکی
جنگ نیوز -
پیرس ... امریکا،برطانیہ ،فرانس اور عرب ممالک نے معمر قذافی سے کہا ہے کہ وہ لیبیائی عوام پر حملے بند کریں یا اقوام متحدہ کی قرارداد کے تحت فوجی کارروائی کا سامنا کرنے کے لیے تیار رہیں،فرانس نے کہا ہے کہ پیرس کانفرنس کے چند گھنٹوں کے اندر لیبیا پر حملہ کیا جا سکتا ہے۔سلامتی کونسل کی قرار داد کے بعد لیبیا میں باغیوں اور حکومت کی جانب سے متضاد دعوے سامنے آئے ہیں ۔ مصراتا میں قذافی مخالف قوتوں کے ترجمان نے کہا کہ فوج نے شہر پر ٹینکوں اور بھاری توپ خانے سے حملہ کیا اور گھروں کے علاوہ مساجد اور ایمبولینسوں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ جبکہ نائب وزیر خارجہ خالد قائم کا کہنا ہے کہ قرار داد کے بعد فوج نے جنگ بندی کی خلاف ورزی نہیں کی اور نہ بن غازی شہر پر حملے کا ارادہ ہے ۔فرانسیسی وزیر خارجہ الائن جوپے نے کہا کہ لیبیا پر حملے کیلیے تیاریاں مکمل ہیں، ان کا کہنا تھا کہ جنگ بندی کا نفاذ پورے لیبیا میں ہونا چاہیے۔اٹلی نے لیبیا کے خلاف اقوام محدہ کی قرارداد کی حمایت کرتے ہوئے نو فلائی زون کے نفاذ کے لیے اپنے سات فوجی اڈے دینے کی پیشکش کی ہے۔ادھر پیرس میں فرانسیسی ایوان صدر سے جاری ایک بیان میں قذافی کو خبردار کیا گیا ہے کہ اگر انھوں نے اقوام متحدہ کی قرارداد پر عمل نہ کیا تو عالمی برادری کی جانب سے نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔اقوام متحدہ میں فرانس کے سفیر نے کہا کہ پیرس سربراہی اجلاس کے چند گھنٹوں کے اندر لیبیا کیخلاف کارروائی ہو سکتی ہے۔ واشنگٹن میں لیبیا کی صورتحال پر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے امریکی صدر بارک اوباما نے کہا کہ اگر معمر قذافی نے اقوام متحدہ کی قرار داد کا احترام نہ کیاتو لیبیا کیخلاف فوجی کارروائی کی جائے گی انھوں نے کہا کہ معمر قذافی اپنے عوام کا اعتماد کھو چکے ہیں۔ترکی کے وزیر خارجہ احمد داؤد اوغلو نے کہا ہے کہ ان کا ملک لیبیا کا تنازع حل کرانے میں مدد کے لیے تیار ہے۔