29 مئی 2011
وقت اشاعت: 5:59
لیبیا پرمغربی ممالک کے حملے جاری،48 افراد ہلاک،150 زخمی
جنگ نیوز -
طرابلس ... لیبیا پرمغربی ممالک کے فضائی اور میزائل حملوں سے فضائی دفاعی نطام کو شدید نقصان پہنچا،اڑتالیس افراد ہلاک اور ڈیڑھ سو زخمی ہو گئے ۔معمر قذافی نے دھمکی دی ہے کہ بحیرہ روم میں شہری اور فوجی اہداف پر جوابی حملے کیے جائیں گے،لیبیا نے صورت حال پر غور کیلئے سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس بلانے کا مطالبہ کردیا ۔امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون کے ایڈمرل ولیم گورٹنے نے کہا ہے کہ ہفتے کو امریکی اور برطانوی جنگی جہازوں اور آبدوزوں سے ایک سو دس سے زائد ٹاما ہاک کروز میزائل فائر کئے گئے اور لیبیا میں20 سے زائد دفاعی تنصیبات کو نشانہ بنا یا گیا اور فضائی دفاعی نظام ناکارہ بنادیا گیا ۔افسر کا کہنا تھا کہ میزائل حملہ کثیرالجہتی”آپریشن اوڈیسی ڈان “کا پہلا مرحلہ ہے۔ پپینٹاگون کے مطابق کارروائی میں امریکا، برطانیہ، فرانس، کینیڈا اور اٹلی حصہ لے رہے ہیں۔ لیبیا کے سرکاری ذرائع نے بتایا ہے کہ غیر ملکی افواج کے حملوں میں 48 افراد جاں بحق اور150 زخمی ہو گئے۔طرابلس میں معمر قذافی کے بنکر کے قریب بمباری کے بعد لیبیائی فوج نے طیارہ شکن توپوں سے جوابی حملہ کیا۔ اتحادی افواج نے طرابلس کے علاوہ زوارہ، مصراتہ، سرت اور بن غازی پر بھی حملے کیے۔سرکاری ٹی وی کے مطابق حملوں میں ایک اسپتال اورمصراتہ شہر کے قریب فوجی کالج کو بھی نشانہ بنایا گیا ۔ لیبیا نے طرابلس میں ایک فرانسیسی طیارہ مار گرانے کا دعویٰ کیا ہے تاہم فرانس کا کہنا ہے کہ تمام طیارے بحفاظت اپنے اڈوں پر واپس آگئے ہیں۔واشنگٹن میں امریکی صدر بارک اوباما نہ کہا کہ لیبیا میں امریکی زمینی فوج نہیں بھیجی جارہی ہے۔لیبیا نے کہا ہے کہ غیر ملکی فوج کے حملے کے بعد سلامتی کونسل کی قرارداد کی حیثیت ختم ہوگئی، معمر قذافی نے ایک آڈیو پیغام میں کہا ہے کہ لیبیا کے دفاع کے لیے ہرممکن اقدام کریں گے،مغربی ممالک کے حملے کے بعد بحیرہ روم کے علاقے میں فوجی اور شہری اہداف کو نشانہ بنائیں گے، ان کا کہنا تھا کہ ملک کے دفاع کے لیے عوام کو مسلح کیا جائے گا۔ہفتے کو ہزاروں افراد نے قذافی کی حفاظت کے لیے ان کی رہائش گاہ کے باہر انسانی ڈھال بنائی۔ افریقی یونین نے لیبیا کے خلاف فوجی کارروائی کی مخالفت کرتے ہوئے حملے فوری طور پر بند کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ وینزویلا کے صدر ہوگو شاویز نے کہا ہے کہ مغربی طاقتیں لیبیا میں تیل کے ذخائر پر قبضہ کرنا چاہتی ہیں۔