29 مئی 2011
وقت اشاعت: 5:59
لیبیا پرمغربی طاقتوں کی طیاروں سے گولہ باری، میزائل داغے گئے
جنگ نیوز -
طرابلس ... لیبیا پرمغربی طاقتوں کی طیاروں سے گولا باری کے بعد جنگی جہازوں اور آبدوزوں سے میزائل داغے گئے جس سے فضائی دفاعی نظام کو شدید نقصان پہنچا ،لیبیا نے فرانسیسی طیارہ مار گرانے کا دعویٰ کیا ہے۔معمر قذافی نے دھمکی دی ہے کہ بحیرہ روم میں شہری اور فوجی اہداف پر جوابی حملے کیے جائیں گے،لیبیا نے سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس بلانے کا مطالبہ کردیا ۔امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون کے ایڈمرل ولیم گورٹنے نے کہا ہے کہ امریکی اور برطانوی جنگی جہازوں اور آبدوزوں سے ایک سو دس ٹاما ہاک کروز میزائل فائر کئے گئے اور لیبیا میں20 سے زائد دفاعی تنصیبات کو نشانہ بنا یا گیا اور فضائی دفاعی نظام ناکارہ بنادیا گیا ۔افسر کا کہنا تھا کہ میزائل حملہ کثیرالجہتی”آپریشن اوڈیسی ڈان “کا پہلا مرحلہ ہے۔ پپینٹاگون کے مطابق کارروائی میں امریکا، برطانیہ، فرانس، کینیڈا اور اٹلی حصہ لے رہے ہیں۔الجزیرہ ٹی وی نے ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ فرانسیسی لڑاکا طیاروں نے بن غازی کے جنوب مغرب میں گولا باری کرکے لیبیائی فوج کی کئی بکتر بند گاڑیاں اور ٹینک تباہ کردیے ۔ اتحادی افواج نے لیبیا کے دارالحکومت طرابلس کے علاوہ زوارہ، مصراتہ، سرت اور بن غازی پر حملے کیے۔سرکاری ٹی وی کے مطابق حملوں میں طرابلس کے ایک اسپتال اورمصراتہ شہر کے قریب فوجی کالج کو بھی نشانہ بنایا گیا ۔ حملوں میں کئی شہریہلاک یا زخمی ہوئے ہیں۔لیبیا نے طرابلس میں ایک فرانسیسی طیارہ مار گرانے کا دعویٰ کیا ہے تاہم فرانس کا کہنا ہے کہ تمام طیارے بحفاظت اپنے اڈوں پر واپس آگئے ہیں۔واشنگٹن میں امریکی صدر بارک اوباما نہ کہا کہ لیبیا میں امریکی زمینی فوج نہیں بھیجی جارہی ہے۔لیبیا نے کہا ہے کہ غیر ملکی فوج کے حملے کے بعد سلامتی کونسل کی قرارداد کی حیثیت ختم ہوگئی، معمر قذافی نے ایک آڈیو پیغام میں کہا ہے کہ لیبیا کے دفاع کے لیے ہرممکن اقدام کریں گے،مغربی ممالک کے حملے کے بعد بحیرہ روم میدان جنگ بن گیا ہے،اس علاقے میں فوجی اور شہری اہداف کو نشانہ بنائیں گے، ان کا کہنا تھا کہ لیبیا کے شہری استعماری جارحیت کے خلاف لڑیں گے،ملک کے دفاع کے لیے شہریوں کو مسلح کیا جائیگا۔ہفتے کو ہزاروں افراد نے قذافی کی حفاظت کے لیے ان کی رہائش گاہ کے باہر انسانی ڈھال بنائی۔ افریقی یونین نے لیبیا کے خلاف فوجی کارروائی کی مخالفت کردی ہے جب کہ وینزویلا کے صدر ہوگو شاویز نے کہا ہے کہ مغربی طاقتیں لیبیا میں تیل کے ذخائر پر قبضہ کرنا چاہتی ہیں۔