تازہ ترین سرخیاں
 تازہ ترین خبریں 
29 مئی 2011
وقت اشاعت: 5:59

لیبیاپر اتحادیوں کے حملے، 60سے زائد ہلاکتیں،شہریوں میں اسلحہ تقسیم

جنگ نیوز -
طرابلس …امریکا اس کے مغربی اتحادیوں کی لیبیا میں قذافی فورسز کیخلاف چڑھائی جاری ہے۔ لیبیا کی حکومت نے اتحادیوں کے حملے کے بعد چند گھنٹوں کے اندر دس لاکھ سے زیادہ افراد میں ہتھیار تقسیم کیے ، اب تک60سے زیادہ ہلاکتیں ہوچکی ہیں جبکہ اتحادی افواج بھی کامیابیوں کے دعوے کررہی ہے ۔ اتوار کی شب ایک سو دس سے زائد ٹام ہاک میزائلوں سے شروع کی جانیوالی فوجی کارروائی اب لیبیا شہروں میں داخل ہورہی ہے ۔ مصراتہ شہر میں قذافی فورسز بڑی تعداد میں ٹینکوں سمیت داخل ہوگئی ہیں اور بندرگاہ بند کردی گئی ہے ۔ شہر کے مرکز میں زبردست لڑائی جاری ہے جہاں بڑی تعداد میں ہلاکتوں کا بھی خدشہ ہے ۔ اتحادیوں نے بڑی حد تک لیبیائی فوج کے ٹھکانوں کو تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے ۔ معمر القذافی کے بیٹے نے غیرملکی فوجی کارروائی کو اتحادیوں کے درمیان بڑی غلط فہمی کا نتیجہ قرار دیا ہے ۔ واشنگٹن میں امریکی صدر بارک اوباما نے کہا کہ انھوں نے لیبیا کیخلاف کارروائی کی اجازت دیدی ہے،تاہم ان کا کہنا تھا کہ لیبیا میں امریکی زمینی فوج نہیں بھیجی جارہی ہے ۔امریکی ایڈمرل ولیم گورٹنے نے کہا کہ آبدوزوں نے بیس سے زائد فضائی دفاعی نظاموں کو نشانہ بنایا۔ پنٹاگون کے مطابق کارروائی میں امریکا، برطانیہ، فرانس، کینیڈا اور اٹلی حصہ لے رہے ہیں۔ الجزیرہ ٹی وی نے ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ فرانسیسی لڑاکا طیاروں نے بن غازی کے جنوب مغرب میں گولہ باری کرکے لیبیائی فوج کی کئی بکتر بند گاڑیاں اور ٹینک تباہ کردیے ۔حملے میں کئی شہریوں کے زخمی ہونے کی اطلاعات ملی ہیں۔ فرانسیسی وزارت دفاع کے ترجمان اور فوجی حکام نے پیرس میں پریس بریفنگ کے دوران بتایا کہ فرانسیسی طیارے نے شام پونے سات بجے لیبیائی فوج کی پہلی گاڑی کو نشانہ بنایا ۔ فرانسیسی فوج کے ترجمان نے کہا کہ معمر قذافی کی فورسز کو روکنے کے آپریشن میں تقریباً بیس طیارے حصہ لے رہے ہیں اور یہ آپریشن حکومت مخالفین کے خود ساختہ دارالحکومت بن غازی کے مشرق میں سو سے ڈیڑھ سو کلومیٹر کے علاقے پر کیا جارہا ہے ۔لیبیا کے دارالحکومت طرابلس میں بھی کئی دھماکے سنے گئے ہیں۔سرکاری ٹی وی کے مطابق مغربی طیاروں کے حملوں میں کئی شہری زخمی ہوئے ہیں۔ٹی وی نے یہ بھی بتایا کہ مصراتہ کے گرد و نواح میں تیل کے ذخائر پر حملے کیے گئے ہیں۔برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون نے کہا ہے کہ برطانوی فوج بھی اتحادیوں کے ساتھ کارروائی میں حصہ لے رہی ہے، ان کا کہنا تھا کہ لیبیا کے شہریوں کی حفاظت کیلئے اقدامات کیے جارہے ہیں ۔ وینزویلا کے صدر ہوگو شاویز نے ایک بیان میں کہا کہ مغربی طاقتیں لیبیا میں تیل کے ذخائر پر قبضہ کرنا چاہتی ہیں۔ امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن کا کہنا ہے کہ امریکا نے بن غازی میں حکومت مخالفین کی قائم کردہ خود ساختہ حکومت کو تسلیم کرنے کا ابھی کوئی فیصلہ نہیں کیا ۔ لیبیا کے رہنما معمر قذافی نے ایک آڈیو پیغام میں ملٹری ایکشن کو وحشیانہ صلیبی حملے قرار دیا ہے،ان کا کہنا تھا کہ امریکا اور مغربی افواج کے حملوں کو غیر منصفانہ اور بربریت پر مبنی قرار دیاہے ۔انہوں نے اعلان کیا کہ ملکی دفاع کیلئے عوام کو مسلح کیا جائیگا۔


متن لکھیں اور تلاش کریں
© sweb 2012 - All rights reserved.