29 مئی 2011
وقت اشاعت: 5:59
این آئی سی ایل میں تقریبا پونے آٹھ ارب روپے کی مشکوک منتقلی
جنگ نیوز -
اسلام آباد…سپریم کورٹ کو بتایاگیاہے کہ این آئی سی ایل میں تقریبا پونے آٹھ ارب روپے کی مشکوک منتقلی ہوئی ، حبیب اللہ وڑائچ سے1 ارب68 کروڑ روپے ریکور کرلئے گئے ہیں جبکہ مقدمہ کا ایک مرکزی ملزم امین قاسم داد اکے برطانیہ پہنچنے کی اطلاع ہے۔ چیف جسٹس افتخار چودھری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ نے مقدمہ کی سماعت کی،چودھری شجاعت حسین اور مشاہدحسین بھی کمرہ عدالت میں موجود تھے، ایف آئی اے کے ایڈیشنل ڈی جی ظفرقریشی نے بتایا کہ این آئی سی ایل والے اراضی کے نئے تخمینہ کی رپورٹ نہیں دے رہے، اس پر چیف جسٹس نے موجودہ چیئرمین طارق پوری کی سرزنش کی ۔ ایف آئی اے نے بتایا کہ لاہورائیرپورٹ اراضی1 ارب6کروڑ میں بیچی گئی، تخمینہ لگوایا تو52کروڑ کا فرق بتایا گیا، اس میں مونس الٰہی سے32کروڑ اور محسن وڑائچ سے10کروڑ وصول کرنے ہیں۔ آڈیٹرجنرل کی ایک رپورٹ کے مطابق این آئی سی ایل میں سنگین بے قاعدگیاں اور بے ضابطگیاں کی گئیں ، ایازنیازی کو چیف ایگزیکٹو این آئی سی ایل بنتے ہی20 لاکھ بونس دیا گیا، اس کیلئے70 لاکھ روپے سے نیا گھر خریدا گیا ،40 لاکھ تزئین و آرائش پر لگے، ایک بینک میں2 ارب کی بری سرمایہ کاری کی گئی۔ مقدمہ کی مزیدسماعت تین ہفتوں بعدکی جائیگی۔ظفرقریشی نے آج پھر مسلم لیگ قاف کے لیڈرز پرکردارکشی کاالزام عائدکیاجبکہ چودھری شجاعت کی ایسی ہی ایک جوابی درخواست پر عدالت نے ظفرقریشی کو نوٹس جاری کردیا۔