29 مئی 2011
وقت اشاعت: 5:59
عدلیہ پر اعتماد ہے،آئین و قانون کے مطابق فیصلہ کریگی،چوہدری شجاعت
جنگ نیوز -
لاہور…مسلم لیگ ق کے سربراہ چوہدری شجاعت حسین نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ آنے سے پہلے ان کے خیالات کچھ اور تھے لیکن اب بہت ساری چیزیں واضح ہوگئیں۔این آئی سی ایل اسکینڈل کیس کی سماعت کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے چوہدری شجاعت حسین نے کہا کہ انہیں عدلیہ پر مکمل اعتماد ہے کہ وہ آئین و قانون کے مطابق فیصلہ کرے گی۔عدالت آنے سے پہلے وہ چیزوں کے مختلف انداز سے دیکھ رہے تھے لیکن اب ساری چیزیں واضح ہوگئی ہیں۔این آئی سی ایل اسکینڈل کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس افتخارنے چوہدری برادران کے وکیل سے کہا کہ انہیں بتا دیں کہ عدالتیں آزاد ہیں۔مونس الٰہی آپ کا بچہ ہے اور ایم پی اے بھی ہے ہم قدر کرتے ہیں اور جو ان کا مقام ہے وہ ٹرائل کورٹ سے انہیں ملے گا۔ جس پر مشاہد حسین نے کہاکہ چوہدری صاحب آپ کے مداح ہیں ، اسی دوران مشاہد حسین اور چوہدری شجاعت کے ہمراہ روسٹرم پر آگئے۔چودھری شجاعت نے چیف جسٹس کے ریمارکس پر کہا کہ آپ نے جن خیالات کا اظہار کیا اس پر وہ اور انکا خاندان چیف جسٹس کا مشکور ہے۔ عدالت سے باہر گفتگو کرتے ہوئے چوہدری شجاعت نے کہا کہ مونس الٰہی پر الزامات غلط ہیں اور کوئی ریکارڈ پیش نہیں کیا گیا۔کمرہ عدالت سے نکلتے ہوئے چوہدری شجاعت اور این آئی سی ایل اسکینڈل کے تفتیشی افسر ظفر قریشی کے درمیان دلچسپ گفتگو ہوئی۔ چوہدری شجاعت نے کہا کہ ان کے بارے میں ظفرقریشی کے خدشات بے بنیاد ہیں۔ وہ کوئی خطرہ محسوس نہ کریں۔ جس پر ظفر قریشی نے کہا کہ کہ وہ یقین دلاتے ہیں کہ اس کیس میں تفتیش شفاف ہوگی اور مونس الٰہی سے کوئی زیادتی نہیں ہوگی۔