تازہ ترین سرخیاں
 تازہ ترین خبریں 
29 مئی 2011
وقت اشاعت: 5:59

پنجاب اسمبلی: شراب حرام ہے تو قانون میں ترمیم ہونی چاہیئے،مجتبیٰ شجاع

جنگ نیوز -
لاہور…پنجاب اسمبلی کے جاری اجلاس میں آج بارہویں روز پہلی مرتبہ وقفہ سوالات ہوا۔ اپوزیشن نے شراب اور اس کی آمدنی پر حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا،وزیر ایکسائز مجتبیٰ شجاع کا کہنا ہے کہ شراب کے معاملے پرکسی مذہبی ا سکالر سے مفتی سے رائے لینی چاہیئے مذہب میں شراب حرام ہے تو قانون میں ترمیم ہونی چاہیے۔اس معاملے پر ن لیگ کے ارکان نے بھی اپوزیشن کی ہاں میں ہاں ملائی جس سے حکومت دفاعی پوزیشن پر آ گئی۔پنجاب اسمبلی کا اجلاس شروع ہوا تو اپوزیشن کے حسن مرتضیٰ نے وزیر ایکسائز کو وزیر شراب کہہ دیا۔ حکومتی ارکان نے اس پر ہلکا پھلکا شور مچایا تاہم حسن مرتضی شراب کی حرمت پر بولتے رہے۔پی پی کی فوزیہ بہرام نے بھی لوہا گرم دیکھ کر چوٹ کی کہ شراب کی فروخت سے حاصل ہونے والی آمدنی حرام ہے تو وزیر اعلیٰ اورا سپیکر کے فنڈز کی رقم کس زمرے میں آتی ہے۔مسلم لیگ ن کے سعید اکبر نوانی بھی میدان میں کودے، انہوں نے پوچھا حرام شراب سے حاصل ہونے والی آمدنی حلال ہے یا حرام۔ایوان میں شراب پر پے درپے سوالات کی بوچھاڑ سے وزیر ایکسائز مجتبیٰ شجاع الرحمان گڑ بڑا گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ مذہب میں تو شراب حرام ہے، تاہم اس کی فروخت کے لائسنس قانون کے مطابق جاری کئے جاتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ اس معاملے پرکسی مذہبی ا سکالر سے مفتی سے رائے لینی چاہیئے مذہب میں شراب حرام ہے تو قانون میں ترمیم ہونی چاہیئے۔اقلیتی ارکان اسمبلی کا کہنا تھا کہ شراب ان کے مذہب میں بھی حرام ہے، وہ اس کے خلاف مشترکہ قرار داد لانے کے لئے تیار ہیں۔ ڈپٹی سپیکر اس ایشو پر ارکان کی رائے سے پریشان رہے۔ وہ بار بار ارکان کو اس معاملے پر جذباتی نہ ہونے کی ہدایت کرتے رہے۔






متن لکھیں اور تلاش کریں
© sweb 2012 - All rights reserved.