29 مئی 2011
وقت اشاعت: 5:59
تمام ریاستی ادارے حدود میں رہ کر کام کریں،صدر کا پارلیمنٹ سے خطاب
جنگ نیوز -
اسلام آباد…صدر آصف علی زرداری نے تمام سیاسی جماعتوں کو سخت معاشی فیصلوں کے لیے فوری قومی ڈائیلاگ کی دعوت دے دی ۔ ان کا کہنا ہے کہ تمام اداروں کو اپنی حدود میں رہ کر کام کرنا چاہیئے آخری دہشت گرد کے خاتمے تک ہماری جدو جہد جاری رہے گی، بے نظیر بھٹو کے قاتل سزا سے نہیں بچ پائیں گے۔صدر زرداری نے پارلیمنٹ سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہم نے صرف باتیں نہیں کیں ، تبدیلی لا کر دکھائی ہے، حکومت نے غیر ترقیاتی اخراجات میں کمی، توانائی کے شعبے کی اصلاحات، نجی شعبے کی تشکیل نو، بیرونی ترسیلات کی حوصلہ افزائی اور غربت کے خاتمے کے لیے جامع حکمت عملی تیار کر لی ہے۔ صدر نے کہا کہ اہم قومی اثاثوں کی نج کاری نہیں کی جائے گی، آئندہ ماہ دیامر بھاشا ڈیم پر کام شروع ہو جائے گا، 2011 تعلیم کا سال اور 2012 پولیو کے خاتمے کا سال ہو گا۔ ہمیں مشکل فیصلے مل جل کر کر لینے چاہئیں۔میں تمام سیاسی جماعتوں کو قومی مکالمے کی دعوت دیتا ہوں،یہ کام تاخیر سے نہیں بلکہ جلد ہونا چاہئیے۔صدر آصف زرداری نے دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف جنگ میں پاک فوج، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور شہریوں کے کردار کو سراہا اور سلمان تاثیر اور شہباز بھٹی کے قتل کی شدید مذمت کی۔ صدر نے پارلیمنٹ سے کہا کہ وہ امریکی پادری ٹیری جونز کی جانب سے قرآن پاک کی بے حرمتی کے خلاف متفقہ مذمتی قرارداد منظور کرے اور اقوام متحدہ کو پیغام دیا جائے کہ ایسی حرکت عالمی امن کے لیے خطرہ ہے۔صدر نے کہا کہ جامع، مکمل، معتبر انتخابی فہرستیں،آزادانہ اور شفاف انتخابات کے لیے ناگزیر ہیں، شناختی کارڈ لازمی قرار دینے کا بل ایوان میں ہے اور الیکٹرانک ووٹنگ سسٹم بھی اہم کردار ادا کرے گا۔ رائے دہندگان کی جامع،مکمل اور معتبر انتخابی فہرستیں،ایک آذادانہ اور منصفانہ الیکشن کی سب سے اولین ضرورت ہیں۔میں اس بالغ نظری کو تحسین کی نگاہ سے دیکھتا ہوں جس کے ساتھ تمام سیاسی جماعتوں نے اس مسئلہ کو حل کرنے کی کوشش کی اور جعلی وو ٹوں کے ذریعے الیکشن میں دھاندلی کے خدشہ کو ہمیشہ کے لیے ختم کر دیا۔ صدر کا کہنا تھا کہ وہ بلا امتیاز اور شفاف احتساب پر یقین رکھتے ہیں جس کا ڈرافٹ بل پہلے ہی سینیٹ میں موجود ہے۔ اپوزیشن کے بائیکاٹ کے باوجود صدر زرداری نے سیاسی مفادات سے بالاتر ہو کر اور اپنی انا کو ایک طرف رکھ کر مفاہمت کی پالیسی اپنانے پر زور دیا ان کا کہنا ہے کہ قیادت کا کام قوم میں اتحاد پیدا کرنا ہے، محاذ آرائی نہیں، تمام اداروں کو اپنی حدود میں رہ کر کام کرنا چاہیئے۔