29 مئی 2011
وقت اشاعت: 5:59
سالانہ تپ دق کے 4لاکھ10ہزار کیس سامنے آرہے ہیں، وزارت صحت
جنگ نیوز -
اسلام آباد...وزارت صحت کے مطابق پاکستان میں ہرسال تپ دق کے 4 لاکھ 10 ہزار نئے کیس رپورٹ ہورہے ہیں اور 2050 تک بھی ملک سے ٹی بی کے خاتمے کا کوئی امکان نہیں ۔ ہرسال ایک لاکھ کی آبادی میں 24افرادٹی بی کے باعث لقمہ اجل بن رہے ہیں،وزارت صحت کے مطابق پاکستان میں دولاکھ سترہزارافرادٹی بی کے مرض میں مبتلاہیں اوراس مرض میں تیزی سے اضافہ بھی جاری ہے، تپ دق سے متاثرہ دنیاکے دس ممالک میں پاکستان کا نمبر آٹھواں ہے۔قومی ٹی بی کنٹرول پروگرام کے مطابق2015 سے تپ دق کے مریضوں میں کمی ہونے کاامکان ہے۔ ڈاکٹراعجاز قدیر، منیجرٹی بی کنٹرول پروگرام کے مطابق2050 تک ٹی بی پرکسی حد خاتمہ کا سوچ سکتے ہیں۔ٹی بی ایک متعدی مرض ہے جو ہوا کے ذریعے پھیلتا ہے۔متاثرہ مریض کے کھانسنے، چھینکنے، قہقہہ لگانے اور تھوکنے سے یہ مرض دوسروں میں منتقل ہوتاہے،ماہرین کاکہناہے کہ پاکستان میں ہرسال ایک متاثرہ شخص سے یہ بیماری اوسطا دس سے پندرہ صحت مندافرادمیں منتقل ہوتی ہے۔جبکہ تین یاتین ہفتوں سے زائدکھانسی، وزن میں کمی، بھوک نہ لگنااورجلد تھک جانا تپ دق کی علامات ہیں ۔دنیا کی چھ ارب آبادی میں سے2 ارب افراد میں ٹی بی کے جراثیم موجود ہیں۔اس بیماری کے باعث ہرسال بیس لاکھ افرادجان کی بازی ہارجاتے ہیں، تاہم متاثرہ شخص کابروقت علاج شروع کرکے اس مرض کاپھیلاوروکاجاسکتاہے۔