تازہ ترین سرخیاں
 تازہ ترین خبریں 
29 مئی 2011
وقت اشاعت: 5:59

ڈرون حملوں میں سویلین ہلاکتوں کی تعداد جاننے کیلئے مقدمہ

جنگ نیوز -
نیو یارک…فارن ڈیسک… پاکستان اور افغانستان میں ڈرونز حملوں کے نتیجے میں سویلین ہلاکتوں کی تعداد جاننے کیلئے امریکا کی عدالت میں مقدمہ دائر ہو گیا۔امریکی محکمہ دفاع نے انکشاف کیا ہے کہ امریکاڈرونز کے ذریعے ہونے والی شہری ہلاکتوں کا کوئی ریکارڈ نہیں رکھتا اور نہ ہی ان ہلاکتوں کی تعداد کو شمار کیا جاتا ہے۔امریکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق یہ انکشاف اس وقت سامنے آیا جب امریکن سول لبرٹیز یونین کی طرف سے فریڈیم آف انفارمیشن ایکٹ کے تحت ایک مقدمے کے جواب میں امریکی محکمہ دفاع نے ایک خط لکھا۔ یونین کی طرف سے دائر مقدمے میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ امریکی حکومت ڈرونز کے استعمال کا قانونی جواز سامنے لائے جن کے ذریعے وہ ایسے جاسوس طیاروں سے منظم طریقے سے غیر ملکیوں کو قتل کر رہے ہیں۔ امریکی محکمہ دفاع کے مطابق ریموٹ کنٹرول جاسوس طیاروں اور دیگر طیاروں کی وجہ سے شہریوں کی ہلاکتوں کی کوئی تفریق نہیں کی جاتی اور فوج کے پاس ایسا کوئی تخمینہ نہیں۔ ان کے پاس ان حملوں میں مجموعی شہری ہلاکتوں کی کوئی معلومات نہیں۔ امریکی صدر اوباما کے یہ الفاظ’شہریوں کے خلاف تشدد کو روکا جائے‘ اوباما انتظامیہ کی توجہ کے مرکز رہے ۔ لیبیا کے پس منظر میں اوباما نے یہ الفاظ کہے تھے جب قذافی نے بن غازی میں باغیوں کو خاموش کرنے کی دھمکی دی تھی۔اس سلسلے میں امریکا ڈرون حملوں کو قانونی جواز دیتا ہے لیکن ان کے ذریعے شہریوں کی ہلاکتوں کی تعداد کا کچھ پتہ نہیں۔امریکی محکمہ دفاع نے تصدیق کی ہے کہ اس کے پاس ایسے شہریوں کی ہلاکت کا کوئی ریکارڈ یا اعدادوشمار نہیں جو ایسے ڈرون طیاروں کی طرف سے قتل کئے جاتے ہیں۔

متن لکھیں اور تلاش کریں
© sweb 2012 - All rights reserved.