29 مئی 2011
وقت اشاعت: 5:59
اتحادی فوج کی طرابلس کے رہائشی اورفوجی علاقوں پربمباری
جنگ نیوز -
طرابلس ... اتحادی فوج نے لیبیا کے دارالحکومت طرابلس اور تاجورا کے رہائشی اور فوجی علاقوں پر فضائی بمباری کی ہے۔امریکا کاکہنا ہے کہ قذافی کی فوجوں کو پیچھے دھکیل دیا ہے مگر اب تک وہ لیبیا کے عوام کے لیے خطرہ ہیں۔ لیبیا کے ترجمان نے بتایا ہے کہ اتحادی فضائی حملوں میں100 شہری مارے جا چکے ہیں ۔ امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن نے کہاہے کہ لیبیا پر اب نو فلائی زون قائم ہو چکا ہے، حملوں کی کمان اب نیٹو فورسز سنبھالیں گی، ان کا کہنا تھاکہ لیبیا میں انسانی امداد شروع کردی گئی ہے، اقوام متحدہ کی طرف سے 80 ڈاکٹرز اور نرسیں بن غازی بھیجی گئی ہیں، فوجی آپریشن کے باعث سیکڑوں شہریوں کو قذافی کی افواج سے بچایا مگر اب بھی ہزاروں افراد کی جانوں کو خطرہ ہے، لیبیا میں فوجی آپریشن پر عرب ممالک کی حمایت کے مشکور ہیں۔ جبکہ متحدہ عرب امارات نے آپریشن میں تعاون کے لیے 12 طیارے دینے کا اعلان کیا ہے۔ فرانس کے صدر نکولس سرکوزی کا کہنا ہے کہ فوجی آپریشن کی کمانڈ نیٹو کے سنبھال لینے کے بعد بھی سیاسی رابطے بہت ضروری ہیں۔لیبیا کے حکومتی ترجمان موسیٰ ابراہیم نے کہا ہے کہ امریکی اور اتحادی حملوں میں مارے جانے والے شہریوں کی تعداد سو تک ہوچکی ہے۔ جبکہ مزید شہریوں کی ہلاکت کا خدشہ ہے۔ موسیٰ ابراہیم نے کہا کہ مغربی افواج حکومت مخالفین کی مدد کررہی ہیں اور اس بات کی اقوام متحدہ کی قراردار میں اجازت نہیں دی گئی۔طرابلس میں اتحادی افواج کے فضائی حملوں سے مارے جانے والے 25شہریوں کی اجتماعی نمازجنازہ میں ہزاروں افراد نے شرکت کی۔ احتجاج کرنے والوں کا کہنا تھا کہ مغربی ممالک ان کے بچوں اور عورتوں کو مار رہے ہیں۔۔ اورلیبیا کو تباہ کررہے ہیں،، ان کے پاس جنگ کے علاوہ کوئی راستہ نہیں۔ ادھر واشنگٹن میں پینٹاگون کے حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ لیبیا میں اتحادی افواج کے حملے میں کوئی شہری ہلاک نہیں ہوا، بلکہ لیبیا کا دفاع نظام متاثرہوا ہے، امریکا کے نائب ایڈمرل ولیم گورٹنے نے بتایا کہ اس وقت 350 طیارے لیبیا پر حملے کرنے میں شامل ہیں۔ نیویارک میں اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون کا کہنا ہے کہ لیبیاکی حکومت جنگ بندی کے لیے سلامتی کونسل کے مطالبات پر عمل نہیں کررہی ، جس پر لیبیا کے خلاف مزید اقدامات بھی اٹھائے جاسکتے ہیں۔ ان کاکہنا تھا کہ اقوام متحدہ لیبیا کی جغرافیائی تبدیلی نہیں چاہتی۔ بان کی مون نے بتایا کہ بحرین میں جاری کشیدگی سے متعلق بحرین کے سلطان سے بات چیت کی ہے۔ مصر میں سیاسی نظام کی بھر پورحمایت کی جائے گی، نیٹو کے سیکریٹری جنرل اینڈرس فوگ راسموسین نے برسلز میں کہا ہے کہ نیٹو لیبیا میں نوفلائی زون پر عمل درآمد کرائے گی، لیبیا میں فوجی آپریشن کی کمانڈ سنبھالنے سے متعلق بات چیت ہورہی ہے۔ ادھر دارالحکومت طرابلس کے علاقے تاجورہ میں مغربی فوج نے 24 گھنٹے کے دوران تیسرا حملہ کیا۔ اس میزائل حملے کے بعد تین مقامات سے گرد اور دھوئیں کے بادل اٹھتے ہوئے دکھائی دیئے۔۔