29 مئی 2011
وقت اشاعت: 5:59
تصوف اور بین المذاہب امن پریونیورسٹی نارتھ ٹیکساس میں سمپوزیم
جنگ نیوز -
ڈیلس...راجہ زاہد اخترخانزادہ … یونیورسٹی آف نارتھ ٹیکساس میں تصوف اور بین المذاہب امن کے عنوان سے ایک سمپوزیم منعقد کیا گیا جس میں دانشوروں اور محققین نے دنیا کے مختلف مذاہب میں تصوف کی روایات پر تقاریر کیں اور ایک مذاکرے میں حصہ لیا۔ سمپوزیم کاافتتاح کرتے ہوئے درگاہ اجمیرشریف کے سجادہ نشین جناب سرور چشتی نے کہا کہ تصوف تمام مذاہب میں تعاون اور ہم آہنگی کا پیغام دیتاہے اور آج بھی جنوبی ا یشیا میں ہر مذہب کے ماننے والوں کیلئے امن کا اہم ستون ہے۔ سمپوزیم کے منتظم ڈاکٹر قیصرعباس نے کہا کہ اکیسویں صدی کے اس پر تشدد دور میں جہاں مذہب کو صرف خانہ جنگی کامحرک سمجھاجاتاہے تصوف دنیا کے تمام لوگوں کو ملانے کاایک اہم ذریعہ بن سکتا ہے۔جارج ٹاؤن یونیورسٹی سے آئے ہوئے محقق ڈاکٹر اوری لولٹیز Ori Loltes نے اسلام‘ عیسائیت اوریہودیت میں مسٹسزمMysticism اور تصوف کا تاریخی تجزیہ کرتے ہوئے کہاکہ مولانا رومی کا فلسفہ دنیا کے تمام صوفی نظریات سے ذیادہ وسیع النظر ہے جہاں انسانی مساوات بلا تفریق مذہب ‘ ملک ا ور ملت موجود ہے۔سمپوزیم میں ڈاکٹر اوری سولٹیز کے علاوہ یونیوسٹی آف نارتھ ٹیکساس کے پروفیسرڈاکٹرجارج جیمزGeorge James‘ ڈاکٹرمسعود اشرف راجہ او ر ڈیلاس سے آئی ہوئی محترمہ برھما پرانا Brahmapranaنے اسلام‘ یہودیت‘ عیسائیت اور ہندوازم میں مسٹسزم کا جائزہ لیا۔ڈاکٹر جارج جیمز نے کہاکہ عیسائیت میں بھی مسٹسزم ایک اہم روایت رہی ہے جو اسلامی تصوف سے مماثلت رکھتی ہے۔ڈاکٹر مسعود راجہ نے سچے اور سادہ انسانی سلوک اور محبت کو آج کے دور میں امن کا اول ترین جزو قراردیتے ہوئے کہا کہ تصوف کے تمام سلسلے جنوبی ایشیا میں بھائی چارے کا درس دیتے ہیں ۔ محترمہ برہما پرانا نے چار اجزاء علم‘ خلوص‘ ادراک اورتوجہ کو ہندو تصوف اور انسانی محبت کے بنیاد ی اصول قراردیاجنہیں Four Yougasکا نام دیا گیاہے۔سمپوزیم کا اختتام صوفی موسیقی سے ہوا جس میں ریحان ‘ اکبر لاکھانی اور مستفیض نے اردو‘ ہندی اور پنجابی صوفی کلام کو موسیقی کی دلفریب دھنوں میں ڈھال کر حاضرین کا دل موہ لیا۔ پروگرام ڈیلاس کی ادبی تنظیم دانش کدہ کے تعاون سے پیش کیا گیا تھا جس کے صدر نادر درانی نے سمپو زیم کے شرکا کو ایوارڈ پیش کئے۔