29 مئی 2011
وقت اشاعت: 5:59
اوورسیز پاکستانیوں کے وفد کی نادرا حکام سے ملاقات
جنگ نیوز -
پیرس…رضا چوہدری /نمائندہ جنگ…یورپ اور نارویجن پاکستانی کمیونٹی کے ایک وفد نے گذشتہ روز نیشنل رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا)کے حکام سے اسلام آباد میں ملاقات کرکے نادرا سے متعلق اوورسیز پاکستانی کمیونٹی کی شکایات ان تک پہنچائیں۔وفد میں پی پی پی ناروے کے سینئر رہنماء میاں محمد اسلام، اوورسیز پاکستانیز پارٹی کے صدرراجہ منصور احمد ، صحافی اور دانشورسیدسبطین شاہ اور اسلام آباد کے مقامی صحافی ممتازحسین علوی بھی شامل تھے۔وفد نے نادراکے ڈپٹی چیئرمین طارق ملک، چیف آپریٹنگ آفیسر برگیڈیئر(ر) زاہد حسین اورانچارچ نیکوپ کرنل (ر) سہیل احمد سے ملاقاتیں کیں۔ وفد نے بتایاکہ ناروے میں پاکستان کے سفارتخانے میں نادرا کا کاؤنٹر گذشتہ اڑھائی سال سے زائد عرصے سے بند ہے۔ کاؤنٹر بند ہونے کے بعد پہلے پہل نادرانے اپنا سسٹم آن لائن کیا تاکہ لوگ نیٹکے ذریعے درخواست دے سکیں لیکن بعد میں وہ سہولت بھی نادرا نے بند کردی ۔ تقریباً ڈیڑہ ، دوسال قبل سابق وزیرمملکت برائے داخلہ تسنیم قریشی نے سفارتخانے جاکر وہاں اس وقت کے سفیر ربنوازخان سے ملاقات کی اور وہیں ہی سے نادرا کے چیئرمین کو فون کیاکہ نادرا کے کاؤنٹرکو دوبارہ کھولاجائے لیکن پھربھی مسئلہ حل نہ ہوسکا۔ اب گذشتہ چند ماہ سے ناروے میں نئے سفیر فیض محمد کھوسو نے نارویجن پاکستانی کمیونٹی کے ساتھ وعدہ کیاہے کہ وہ نادرا کا کاؤنٹر دوبارہ کھولائیں گے۔خاص طورپر انھوں نے یکم اپریل تک یہ کاؤنٹر کھل جانے کا وعدہ 23مارچ کو یوم پاکستان کی تقریب کے موقع پر کیاہے۔ یہ وعدہ بھی اپریل فول جیسالگتاہے۔ نادراکے حکام نے بتایاکہ اس مقصد کے لیے سفارتخانے نے تین نام اوسلوسے نادرا کو بجھوائے ہیں تاکہ ان میں سے نادرا کسی ایک کو مقررکرسکے۔میاں اسلام اور راجہ منصور احمد نے بتایاکہ اوسلومیں کاؤنٹر نہ ہونے کی وجہ سے نارویجن پاکستانیوں کو پاکستان اوریجن کارڈز اور نیکوپ بنوانے میں کافی دشواری ہے۔ اب لوگوں کو کاغذات جمع کرنے کے لیے اوسلوسے اسلام آباد آنا پڑتاہے یا پھر کئی لوگ اپنے عزیزرشتہ داروں یا دوستوں کے ہاتھ اپنے کاغذات جمع ہونے کے لیے اسلام آباد بجھواتے ہیں۔اسلام آباد میں نادرا کے کاؤنٹر والے کئی پیچیدگیاں نکالتے ہیں۔ خاص طورپر خونی رشتہ دارکو اوورسیزپاکستانیوں کے لیے ایک معمہ بن گیاہے۔اوریجن کارڈکے فارم میں یہ خانہ لازمی قرار دیاگیاہے جس سے لوگوں کوکافی پریشانی ہے۔خونی رشتہ اوریجن کارڈ والانہیں چلتابلکہ وہ عام پاکستانی کارڈ والاہوناچاہیے۔ کئی لوگوں کے خونی رشتہ دارفوت ہوچکے ہیں یاپھر اب ان کا پاکستان میں کوئی خونی رشتہ دارنہیں، سب باہرہیں، وہ اپناخونی رشتہ دارجس کے پاس پاکستانی شناختی کارڈ ہو،کہاں سے لائیں گے۔ ہربالغ کے لیے اوریجن کارڈ کی قیمت ۹ ہزار سے چودہ ہزار تک ہے اور نادرا کے بہت اخراجات اور تنخواہیں وغیرہ انہی پیسوں سے پوری ہوتی ہیں۔اگرکسی فیملی میں دس افراد ہیں تو انھیں اچھے خاصے اجراجات اٹھا کر پوری فیملی کے لیے اوریجن کارڈ بنوانے پڑتے ہیں۔وفد نے میڈیاسے گفتگوکرتے ہوئے بتایاکہ اوسلومیں سفارت خانے کے بارے میں یہ بھی خبرہے کہ نارویجن پاکستانی کمیونٹی کے اکثر افراد سفارت خانے کے نچلے سٹاف کے رویے سے سخت نالاں ہیں۔لوگ پیدائشی سرٹیفکیٹ، دیگرکاغذات کی تصدیق اور پاسپورٹ اور این او سی وغیرہ کے لیے سفارت خانے سے رجوع کرتے ہیں لیکن کئی بارسٹاف متعدد پیچیدگیاں نکال کرکاغذات انھیں واپس تھمادیتے ہیں اورکہتے ہیں مزید چیزیں پوری کرکے لائیں۔ اگرکوئی سفیروغیرہ کو شکایت کرنے کی کوشش کرتاہے وہاں تک چپڑاسی ہی نہیں جانے دیتا۔ البتہ کچھ خاص لوگوں کی سفارتکاروں تک رسائی ہوجاتی ہے۔ سفارت خانے کی عمارت کئی سالوں سے تبدیل کرنے کے منصوبے پر بھی ابھی تک عمل نہیں ہوسکا۔ ویزا سیکشن اس چھوٹی سے عمارت کے تہیہ خانے میں بنایاگیاہے جس کی حالت اس طرح ہے جس طرح کسی دیہات میں ایک کمرہ پر مشتمل مکان ہو۔ سفارتخانے کے حکام نے عمارت تبدیل کرنے کا کئی دفعہ اعلان کیا لیکن ابھی تک اس پر عمل درآمد نہیں ہوسکا۔