تازہ ترین سرخیاں
 تازہ ترین خبریں 
29 مئی 2011
وقت اشاعت: 5:59

لیبیا: حکومتی عہدیدار بھی کرنل قذافی کا ساتھ چھوڑنے لگے

جنگ نیوز -
طرابلس … تیونس سے شروع ہونیوالے حکومت مخالف مظاہروں کی لہر نے عرب دنیا کے کئی ممالک کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ تبدیلی کی خواہش عوام کو سڑکوں پر لے آئی اور برسوں سے قائم حکومتی ڈھانچے ہل کر رہ گئے۔ لیبیامیں ایک جانب نیٹو کی فوجی کارروائی قذافی حکومت کا زور توڑنے کی کوشش میں ہے تو دوسری جانب حکومتی عہدیداروں کا ساتھ چھوڑنا بھی حکومت کمزور کر رہاہے۔وزیر خارجہ موسیٰ کُوسا عہدہ چھوڑ کر برطانیہ جاچکے ہیں۔دوسرے افراد میں پٹرولیم اور انٹیلی جنس وزرا کے علاوہ نائب وزیر خارجہ بھی شامل ہیں۔اقوام متحدہ میں لیبیا کے سفیرعلی عبدالسلام ترکی نے بھی عہدہ قبول کرنے سے انکارکردیا ہے۔انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق مخالفین کی حمایت کرنیوالے چار سو افراد لاپتہ ہوگئے ہیں ان میں سے بیشتر نوجوان اور بیروز گار ہیں۔دوسری جانب شام میں جمعے کو ایک بڑے عوامی مظاہرے کا اعلان کیاگیا ہے۔مخالفین کو ٹھنڈا کرنے اور احتجاج روکنے کیلئے صدر بشار الاسد نے پچاس سال سے نافذ ایمرجنسی کے بارے میں فیصلہ کرنے کیلئے کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔یہ کمیٹی دو ہفتے سے جاری پر تشدد مظاہروں میں شہریوں کی ہلاکت کی تحقیقات بھی کریگی ،جبکہ بحرین کی حکومت نے دو روز قبل پکڑے گئے اپنے شدید مخالف اور بلاگرمحمود ال یوسف کو رہاکردیا ہے۔ خطے کی صورتحال دیکھتے ہوئے کویتی کابینہ کے ارکان نے بھی استعفیٰ دے دیا۔کویتی حکومت نے بحرین میں اپنی فوج بھیجنے سے انکار کردیاتھااورسب سے آخر میں مصر ، جہاں سابق صدر حسنی مبارک کی حکومت کے تین اعلیٰ عہدیداروں پر ملک چھوڑنے پر پابندی لگادی گئی ہے۔ان تینوں کیخلاف کرپشن کے الزامات کی تحقیقات جاری ہیں۔

متن لکھیں اور تلاش کریں
© sweb 2012 - All rights reserved.