29 مئی 2011
وقت اشاعت: 5:59
مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے یورپ میں مشترکہ جدوجہد کی ضرورت ہے، علی رضا سید
جنگ نیوز -
پیرس…رضا چودھری/نمائندہ جنگ...کشمیرکونسل ای یو کے چیئرمین علی رضاسید نے اعلان کیاہے کہ کونسل مسئلہ کشمیرپر بہت جلد ایک بڑے اتحاد کے قیام کی کوششیں شروع کریگی۔ہم کشمیرپرعالمی سطح پر ایک متحدہ اور موثر آواز چاہتے ہیں۔ یہ بات انھوں نے پیرکے روز نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں ایک پریس اینڈویڈیوکانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔چیئرمین کشمیرکونسل ای یو علی رضاسید نے کہاکہ اگرچہ بہت سے گروپ اورتنظیمیں یورپ اور دوسرے ملکوں میں مسئلہ کشمیرپر کام کررہی ہیں لیکن ایک مشترکہ جدوجہد کی ضرورت ہے جس سے کشمیرپراٹھنے والی ان کی آواز کی قدروقیمت بڑھے۔ ایک مشترکہ حکمت عملی اپنائی جائے ۔ ہماری انفرادی کوششیں اتنی زیادہ موثر نہیں ہوسکتی جتنی متحدہ کوششیں موثر ہوسکتی ہیں۔ ہمیں ایک دوسرے کے مشورے سے کشمیرپر آواز اٹھانی چاہیے۔ انھوں نے مزید کہاکہ بین الاقوامی برادری کوکشمیریوں کو نظرانداز نہیں کرناچاہیے۔کشمیریوں کی خواہشات کے بارے میں علی رضاسید نے کہاکہ کشمیری انصاف کے لیے اپنی آواز دنیا میں بلند کررہے ہیں۔ احتجاجی مظاہروں اور جلوسوں اور وادی کشمیرمیں جانی قربانیان دے کر اپنے حقوق کو اجاگر کررہے ہیں۔ کشمیرکونسل ای یو کی یورپ میں جاری جدوجہد کے بارے میں چیئرمین کونسل نے بتایاکہ یہ یورپ میں کشمیری برادری کا ایک پلیٹ فارم ہے جو کشمیرپرآگاہی پیداکرنے اور یورپی حکومتوں اور عوام اور مختلف اداروں اور تنظیموں کو کشمیرکی تازہ ترین صورتحال سے مسئلے کے تاریخ پس منظر کے تناظر میں مطلع کرتارہتاہے۔ انہوں نے بتایا کہکشمیرکونسل ای یو نے ابتک مسئلہ کشمیر کو کانفرنسوں، سیمیناروں ،ملاقاتوں اور احتجاجی مظاہروں کے ذریعے اٹھایاہے۔ یورپی پارلیمنٹ اور دوسرے ملکوں کے قانون ساز اداروں بشمول بلجیم کی وفاقی پارلیمنٹ میں کشمیریوں کی آواز کو پہنچایاہے۔ کشمیرکونسل ای یو کی طرف سے شروع کردہ ”ایک ملین دستخط مہم“ یورپ میں بڑی تیزی سے جاری ہے اور ابتک بڑی تعدادمیں یورپی لوگوں نے اس مہم کی دستاویزات پر دستخط کئے ہیں۔یہ مہم اس وقت تک بلجیم ، ہالینڈ اور فرانس پہنچی ہے اور مزید ممالک میں جائے گی جس کا مقصد مظلوم کشمیریوں کے لیے حمایت حاصل کرناہے۔چیئرمین کشمیرکونسل ای یو علی رضاسید نے کہاکہ مسئلہ کشمیرکامنصفانہ حل دونوں پاکستان اور بھارت کے لیے اہم ہے۔اگر دونوں ممالک کرکٹ ڈپلومیسی یا کسی دوسرے ذریعہ سے بات چیت کرناچاہتے ہیں تو دونوں ممالک کو کشمیریوں کوبھی ایک فریق کے طورپر مذاکرات کا حصہ قرار دیناہوگا۔ کشمیرپر مذاکرات کشمیریوں کے بغیرنتیجہ خیز نہیں ہوسکتے۔ خطے میں پانی کے مسئلے پر توجہ دلاتے ہوئے علی رضاسید نے کہاکہ پانی کا مسئلہ بہت ہی خطرناک ہے ۔ فوری نوعیت کے اس مسئلے پر بلاتاخیر توجہ دینا اور اسے حل کرناوقت کی اشد ضرورت ہے۔