29 مئی 2011
وقت اشاعت: 5:59
پاتک کی گرفتاری انٹیلی جنس اداروں کیلئے سونے کی کان ہے،امریکی اخبار
جنگ نیوز -
واشنگٹن…فارن ڈیسک…پاکستان میں پاتک کی گرفتاری براک اوباما کے دور صدارت کی سب سے بڑی پیش رفت ہے۔پاتک انٹیلی جنس معلومات کی ایک سونے کی کان ہے۔پاتک سے القاعدہ کی قیادت اور اس کی آپریشنل منصوبہ بندی کی موجودہ حیثیت کے بارے میں پتہ چلایا جاسکتا ہے۔ اگر پاکستانی حکام نے اسے انڈونیشین حکام کے حوالے کردیا تو یہ امریکا کی قومی سلامتی کے لیے تباہ کن ہوگا۔امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ میں ایک مضمون میں کہا گیا کہ اس وقت جب دنیالیبیا میں فوجی کارروائی پر توجہ مرکوز کیے ہوئے تھی اس وقت پاکستان میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ایک اہم پیش رفت ہوئی۔دہشت گردی کے سب سے بڑے دہشت گرد کو زندہ گرفتار کر لیا گیا۔ پاکستانی حکام نے حال ہی میں اسے حراست میں لیا ہے اور اس کی گرفتاری اوباما انتظامیہ کے لئے ایک بڑا امتحان لائی ہے۔ کیا اوباما اس ہائی ویلیو دہشت گردی کوامریکا میں لاکر تفتیش کر سکے گی۔ ا سکا جواب ہمیں مسقتبل میں ملے گا کہ کتنی شدت سے اوبامااگلے حملے کو روک پائیں گے۔گرفتار دہشت گرد عمر پاتیک القاعدہ کے جنوب مشرقی ایشیا کے ایک سینئر کمانڈر ہیں جن کا تعلق جامعہ اسلامیہ سے ہے اور ان کا شمار دنیا کے انتہائی مطلوب دہشتگردوں میں سے ہے۔ وہ 2002کے بالی نائٹ کلب بم دھماکوں کے فیلڈ کوارڈینیٹر اور بدنام زمانہ ہمبالی نیٹ ورک کے بڑے رکن ہے جنہوں نے خالد شیخ محمد کے ساتھ مل کر 11 ستمبر 2001 کے امریکہ پر حملوں کا منصوبہ بنا یا۔ہمبالی اور اس کا نیٹ ورک2003میں پکڑا گیا۔پاتک انڈونیشیا سے فرار ہو گیا اورجنوبی فلپائن پناہ لی ۔امریکا نے اس کی گرفتاری کے لئے دس لاکھ ڈالر انعام رکھا تھا۔ ایک سابق امریکی سینئر انٹیلی جنس عہدیدار نے بتایا کہ اس قسم کے دہشت گرد کو بش انتظامیہ کے دوران پوچھ گچھ کے لیے سی آئی اے کے حوالے کردیا جاتا تھا۔لیکن صدر اوباما نے سی آئی اے کے تفتیشی پروگرام کا خاتمہ کردیا ہے اور ایجنسی کی بلیک سائٹس بند کر دی ہیں۔اب اس کی تفتیشکیسے ممکن ہے اور اس شخص سے پوچھ گچھ کون کرے گا؟ ایک سینئر پاکستانی انٹیلی جنس عہدیدار نے برطانوی خبر رساں ادارے کو بتایا کہ وہ پاتک کو انڈو نییشن حکام کے حوالے کرنے جا رہے ہیں۔اسے امریکیوں کو حوالے کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں۔اگر ایسا ہوا تو یہ امریکہ کی قومی سلامتی کے لئے تباہ کن ہو گا ۔صرف درست طریقے سے امریکا ہی اس سے پوچھ گچھ کرسکتا ہے۔کیا اوباما انتظامیہ پاکستانی حکام سے اس کی حوالگی کی درخواست کرے گی۔پاتک جنوب مشرقی ایشیا میں صرف پاکستان میں گیا۔القاعدہ کے رہنماوٴں سے ملاقات کرنے کے لیے وہاں کا سفر اس نے کیا۔گزشتہ سال سی آئی اے کے ڈائریکٹر لیون نے کہا ہے کہ پاکستان کے قبائلی علاقے میں القاعدہ کے خلاف جارحانہ حملوں کے بعد القاعدہ رہنماوٴں کو رپوش ہونے پر مجبور کردیا ہے۔ بین الاقوامی کرائسس گروپ کے مطابق ایسی قابل اعتماد رپورٹیں ہیں کہ پاتک کے پاکستان کا سفر کرنے سے قبل وہ یمن میں تھا۔اگر درست ہو تو وہ وہاں کیا کررہا تھا۔