29 مئی 2011
وقت اشاعت: 5:59
ہائیر ایجو کمیشن کمیشن کو صوبوں کے حوالے نہ کیا جائے،وائس چانسلرز
جنگ نیوز -
اسلام آباد…ملک بھرکی تمام سرکاری اور نجی جامعات نے ہایئرایجوکیشن کمیشن کی صوبوں کو منتقلی کی مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اٹھارہویں ترمیم کی فہرست میں ایچ ای سی شامل نہیں، اگرانہیں جعلی ڈگریوں کی تصدیق کی سزادی گئی ہے تو ایسا یونیورسٹیوں نے ایچ ای سی نے نہیں بلکہ سپریم کورٹ کے حکم پرکیا تھا۔ سرکاری اور نجی جامعات کے وائس چانسلرز کا ایچ ای سی اسلام آباد میں ہنگامی اجلاس ہوا جس کے دوران حکومت سے متفقہ قرارداد کے ذریعے مطالبہ کیا گیا ہے کہ ایچ ای سی کو صوبوں کے حوالے نہ کیا جائے ۔چیئرمین وائس چانسلر ایکشن کمیٹی اور انجینئرنگ یونیورسٹی پشاور کے وائس چانسلر امتیاز گیلانی نے میڈیا بریفنگ میں بتایا کہ ایچ ای سی صوبوں کو منتقل ہوا تو ملک میں معیار تعلیم کو شدید نقصان ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہائیر ایجوکیشن کمیشن کے معاملے پر صدر، وزیراعظم، صوبائی گورنرز اور وزرا اعلیٰ سے رابطے کیے جائیں گے۔وائس چانسلر کا کہنا تھا کہ وہ حکومت کا حصہ ہیں احتجاج تو نہیں کرسکتے مگر طلبہ کواس سے نہیں روک سکتے۔