29 مئی 2011
وقت اشاعت: 5:59
شمالی وزیرستان میں3سوخودکش حملہ آور زیرتربیت ہونے کا انکشاف
جنگ نیوز -
ڈیرہ غازی خا ن …ڈیرہ غازی خا ن میں سخی سرور میں خودکش حملے میں ناکامی پر حراست میں لیے جانے والے حملہ آور کاکہنا ہے کہ بے گناہ شہریوں کو قتل کرنے پر اسے افسوس ہے اور وہ اس پر معافی مانگتاہے۔ڈیرہ غازی خان کے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر اسپتال میں پولیس حراست میں زیر علاج خودکش بمبار عمر نے جیونیوز سے گفتگوکرتے ہوئے کہا کہ انہیں بتایا گیا کہ ڈیرہ غازی خان میں لوگ مردوں کو پوجتے ہیں اور کفر کے مرتکب ہورہے ہیں ۔جس پر وہ اپنے دیگر ساتھیوں کے ہمراہ خودکش حملہ کرنے کے لئے سخی سرور پہنچا جہاں اس کے ایک ساتھی اسماعیل نے تو خودکش حملہ کردیالیکن وہ پکڑا گیا۔عمر نے بتایا کہ قبائلی علاقے میر علی کی تربیت گاہ میں اس نے دوسودیگر نوجوانوں کے ہمراہ تربیت حاصل کی اس نے کہا کہ پاکستان اور افغانستا ن میں تمام تربیت گاہوں کی نگرانی کمانڈر سنگین خان نامی ایک شخص کرتاہے۔ ۔وہ نویں جماعت کا طالب علم تھا۔اس نے کہا کہ وہ تما م فدائیوں سے مطالبہ کرتاہے کہ خودکش حملے نہ کریں ۔کیونکہ یہ حرام ہیں ۔عمر کا کہنا تھا کہ اسے بے گناہ شہریوں ،بچوں اور خواتین کے قتل پر افسوس ہے اور وہ اس پر معافی مانگتاہے۔