29 مئی 2011
وقت اشاعت: 5:59
عدم تشدد کی پالیسی سے دنیا میں انقلاب برپا کیا جاسکتا ہے،ارون گاندھی
جنگ نیوز -
ڈیلاس ... راجہ زاہد اختر خانزادہ ... مہاتما گاندھی کے پوتے اور ایم کے گاندھی انسٹی ٹیوٹ آف نان وائلینس کے بانی ارون گاندھی نے کہا ہے کہ عدم تشدد اور برداشت کی پالیسی کو اپناکر دنیا میں انقلاب برپا کیا جاسکتا ہے مہاتما گاندھی نے عدم تشدد و برداشت کی پالیسی کے ذریعے جو انقلاب برپا کیا وہ رہتی دنیا تک یاد رکھا جائیگا۔ یہ بات یہاں امریکہ کی ریاست ٹیکساس کے شہر فورٹ ورتھ میں ٹیکساس ویلسن یونیورسٹی کے مارٹن آڈیٹوریم میں ”جو اسباق میں نے دادا سے سیکھے“ کے عنوان پر لیکچر دیتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہاکہ جب ہٹلر کی افواج نے ناروے کا کنٹرول سنبھالا تو ہٹلر نے اس وقت کے وزیراعظم کے ذریعہ وہاں کے تعلیمی نظام کو تبدیل کرنے کے احکامات دیئے مگر ناروے کے تمام سیاسی رہنماؤں نے اس سے انکار کیا اور عدم تشدد و برداشت کی پالیسی کا راستہ اختیار کرتے ہوئے احتجاج کیا تو ہٹلر کو بھی مجبوراً اپنا حکم واپس لینا پڑا۔ ارون گاندھی نے کہاکہ عدم تشدد اور برداشت کی اس پالیسی اور تھیوری کو ہم اپنی عام زندگیوں سے لیکر ملکی تحریکیوں میں استعمال کرکے حیران کن نتائج حاصل کرسکتے ہیں۔ تاہم اس کے لئے ضروری ہے کہ ہم کو اس کے استعمال کا طریقہ کار آنا چاہئے۔۔ ارون گاندھی نے کہاکہ معاشرہ میں ہم لوگ تعلقات فوائد کو مدنظر رکھ کر قائم کرتے ہیں جوکہ درست نہیں ۔ انہوں نے والدین کے اپنے بچوں سے تعلقات کے حوالے سے بھی بھرپور بحث کی اور کہاکہ بچوں کو غلطیوں پر سرزنش کرنے کے بجائے بچوں کو بتانا چاہئے کہ انہوں نے کیا غلط کام کیا اس لئے وہ ایسا کررہے ہیں اور اس طرح کرنے سے بچوں میں احساس شعور اجاگر ہوتا ہے اور وہ آئندہ غلطیوں کا احتمال نہیں کرتے ۔ارون گاندھی نے کہاکہ مہاتما گاندھی نے جو پیغام امن قائم کرنے کے لئے دیا وہ پیغام میں گھر گھر پہنچا رہا ہوں اور آپ پر بھی لازم ہے کہ اس پیغام کو اپنے تک محدود نہ کریں بلکہ اس کو پھیلانے کا ذریعہ بنیں تاکہ ہم آئندہ آنے الی نسلوں کو بہتر اور پرامن دنیا دینے میں کامیاب ہوسکیں ان کا لیکچر سننے کے لئے ہال مقامی امریکیوں سے کھچاکھچ بھرا ہوا تھا اس موقع پر ان کو فورٹ ورتھ کے میئر کی جانب سے شہر کی چابیاں بھی دی گئیں اور حاضرین نے ان کو تالیاں بجاکر بھرپور داد دی۔