تازہ ترین سرخیاں
 تازہ ترین خبریں 
4 جولائی 2011
وقت اشاعت: 8:20

تھیلیسیما مریضوں کے جسم سے اضافی آئرن نکالنے والے انجکشن کی قلت

جنگ نیوز -
کراچی…تھیلیسیمیا کی بیماری میں مبتلا مریضوں کو مستقل بنیاد پر خون منتقل کرنا پڑتا ہے جس کی وجہ سے ان کے جسم میں اضافی فولاد جمع ہو جاتا ہے۔ اس فولاد کو نکالنے کے لیے درکار انجکشن کی آج کل شدید قلت پیدا ہو گئی ہے جس کی وجہ سے اس مرض میں مبتلاافراد کی زندگیاں خطرے میں پڑ گئی ہیں۔ تھیلیسیمیا،ایک ایسی تکلیف دہ بیماری ہے جس کے مریض کو ہر ماہ دو سے تین بوتلیں خون کی لگتی ہیں،ہرایک بوتل کے بعد مریض کے جسم میں اضافی فولاد کی مقدار دو سو سے ڈھائی سو نینوگرام بڑھ جاتی ہے۔مریض کے جسم میں تین ماہ کے اندر اوسطاً دوہزار سے زائد نینو گرام اضافی فولاد جمع ہو جاتا ہے جسے نکالنے کیلئے مخصوص انجکشن استعمال کیاجاتا ہے۔ ڈاکٹرز کے مطابق تھیلیسیمیا کے ایک مریض کے جسم میں ایک ہزار نینو گرام سے زیادہ فولاد نہیں ہونا چاہیے لیکن انجکشن کی قلت پیدا ہونے کے باعث مریضوں میں اضافی فولاد کی سطح کئی گنابڑھ گئی ہے۔ لیاری کے رہائشی نوجوان جمال احمد بھی انہی مسائل کاشکار ہے، اب اس کی تکلیف بہت بڑھ گئی ہے۔ ڈاکٹرز کے مطابق یہ انجکشن پہلے ایران کے راستے مختلف ذرائع سے یہاں مل جاتا تھا لیکن گزشتہ ایک سال سے یہ ذرائع بند ہو گئے ہیں اور یہ دوا بنانے والی کمپنی بھی زیادہ انجکشن فراہم نہیں کر رہی جس کی وجہ سے ہزاروں مریض اس بنیادی علاج سے محروم ہو گئے ہیں۔اوسطاً چھ انجکشن ہر ہفتے ایک مریض کو لگتے ہیں اور یہ ان کا عمر بھر جاری رہنے والا علاج ہے۔ جیونیوزکے معلوم کرنے پرانجکشن بنانے والی کمپنی کے ترجمان نے بتایاکہ دوا کی کوئی قلت نہیں ہے، ڈیمانڈ بڑھ گئی ہے جو فوری طور پر پوری کرنا ممکن نہیں۔۔ تھیلیسیمیا کی بیماری میں مبتلا ان بچوں کو اگر محفوظ انتقال خون کے ساتھ ان کے جسم میں جمع ہونے والے اضافی فولاد کو نکالنے والے انجکشن کی بھی مستقل فراہمی کی جائے تو یقیناً ان بچوں کا معیار زندگی مزید بہتر بنایا جا سکتا ہے۔

متن لکھیں اور تلاش کریں
© sweb 2012 - All rights reserved.