5 جولائی 2011
وقت اشاعت: 18:2
ایبٹ آباد کمیشن کی تحقیقات تک اسامہ کا خاندان واپس نہ بھجوانے کا فیصلہ
جنگ نیوز -
اسلام آباد…ایبٹ آباد واقعہ پر قائم انکوائری کمیشن نے اسامہ بن لادن کی فیملی سے متعلق ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ طلب کرلی جبکہ11 جولائی کو کمیشن کا پہلا باقاعدہ اجلاس بلانے کا فیصلہ کیا گیا ہے جس میں عسکری حکام بریفنگ دیں گے۔ دو مئی کواسامہ بن لادن کیخلاف ایبٹ آباد میں امریکی آپریشن سے متعلق تحقیقات کیلئے قائم کمیشن کا اجلاس سپریم کورٹ کے سینئر جج جسٹس جاوید اقبال کی سربراہی میں ہوا۔ اجلاس میں کمیشن کے ارکان سابق آئی جی عباس خان، این ڈی ایم اے کے سابق سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ ندیم احمد اور سابق سفیر اشرف جہانگیر قاضی شریک ہوئے۔ذرائع کے مطابق اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ کمیشن کی کارروائی مکمل ہونے تک اسامہ بن لادن کی فیملی کو پاکستان سے واپس نہیں بھجوایا جائیگا۔ امکان ہے کہ کمیشن اسامہ کے اہل خانہ سے ملاقات بھی کریگا۔ذرائع کے مطابق کمیشن کا پہلا باقاعدہ اجلاس 11جولائی کو طلب کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جس میں ڈی جی ملٹری آپریشنز کی جانب سے بریفنگ دیے جانے کا امکان ہے۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ واقعہ سے متعلقہ افراد سے براہ راست انٹرویوز کیے جائیں گے جبکہ اخبارات میں اشتہارجاری کرکے کمیشن میں بیان ریکارڈکرانے کی دعوت بھی دی جائیگی۔ذرائع کے مطابق اجلاس سے خطاب میں جسٹس جاوید اقبال کاکہناتھاکہ کمیشن کی کارروائی مکمل طور پر شفاف ، آزادانہ اور منصفانہ ہوگی۔