6 جولائی 2011
وقت اشاعت: 11:32
چھ ماہ کے دوران کراچی میں 1138افراد مارے گئے، ہیومن رائٹس کمیشن
جنگ نیوز -
کراچی…ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کے اعدادوشمار کے مطابق سال 2011کے پہلے چھ ماہ کے دوران کراچی میں ٹارگٹ کلنگ اور قتل و غارت گری عروج پر رہی۔ اس عرصے میں 1138افراد کو قتل کیا گیا۔ایچ آر سی پی کی چیئرپرسن زہرہ یوسف نے پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ جنوری سے جون 2011 تک کراچی میں مجموعی طور پر 1138 افراد کوقتل کیا گیا ، ان میں 490 افراد ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنے۔ ٹارگٹ کلنگ کا شکار ہونے والوں میں 250 افراد ایسے تھے جن کا کسی سیاسی جماعت سے تعلق نہیں تھا ،جبکہ 150 افراد کا تعلق سیاسی جماعتوں، 19کا مذہبی جماعتوں، 3کا تعلق قوم پرست جماعتوں اور 4 افراد کا تعلق کالعدم تنظیموں سے تھا،لسانی بنیادوں پر 56 افراد جبکہ فرقہ وارانہ بنیادوں پر 8افراد کو قتل کیا گیا ،ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بننے والوں میں 9 خواتین اور 4بچے بھی شامل ہیں جنہیں لسانی بنیادوں پر قتل کیا گیا۔ چھ ماہ کے دوران لیاری گینگ وار میں 37 مردوں اور 2 خواتین کو قتل کیا گیا۔ دیگر 648 افراد مختلف جرائم میں قتل ہوئے جن میں پولیس مقابلوں کے دوران مارے جانے والے افراد کی تعداد چونتیس ہے۔ مختلف واقعات میں 41پولیس اہل کار ، ملٹری اور پیرا ملٹری 11اہلکار جاں بحق ہوئے۔ ذاتی دشمنی کی بنیاد پر 123 افراد جبکہ 137 افراد کو اغوا کے بعد قتل کیا گیا۔ 29 افراد کی لاشیں مختلف مقامات سے ملیں، ایچ آر سی پی کیمطابق 2005 سے 2010 تک 8913 افراد کو قتل کیا گیا ، سب سے زیادہ 798 افرادکو اغوا کے بعد قتل کیا گیا،ادارے کا کہنا ہے کہ حکومت کی سیاسی مصلحت کے باعث کراچی میں پولیس اوررینجرز کی کارکردگی نہ ہونے کے برابر ہے اور کراچی میں اتنی بڑی تعداد میں شہریوں کی ہلاکت قانون نافذ کرنیوالے اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔