7 جولائی 2011
وقت اشاعت: 17:2
دہشتگردی اور پرتشدد کارروائیوں کا سلسلہ جاری،مزید17افراد ہلاک
جنگ نیوز -
کراچی…کراچی کے مختلف علاقوں میں دہشتگردی اور پرتشدد کارروائیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ اورنگی ٹاوٴن کے بعد بلدیہ ٹاون میں بھی صورتحال کشیدہ ہوگئی ہے۔ آج تازہ واقعات میں پانچ سالہ بچی سمیت سترہ افراد ہلاک جبکہ خاتون اور بچے سمیت 14 افراد زخمی ہوگئے۔ بنارس پل اور عبد اللہ کالج کے قریب بسوں پر فائرنگ کے نتیجہ میں 10افراد جاں بحق جبکہ20افراد سے زائد زخمی ہو گئے ۔کراچی کے علاقے اورنگی ٹاوٴن، حسن اسکوائر اور شیر شاہ میں منگل کواچانک فائرنگ کا سلسلہ شروع ہوا اورنگی ٹاوٴن، کٹی پہاڑی اور قصبہ کالونی میں دو گروپوں میں مورچہ بند فائرنگ، گھروں پر حملوں اور جلاوٴ گھیراوٴ کا سلسلہ آج تیسرے روز بھی جاری ہے۔ جہاں گلی میں کھیلنے والی 5 سالہ بچی لائبہ گل، 25 سالہ ذوہیب علی، زاہد علی، تنویراحمد اور عالم گیر ہلاک جبکہ ایک خاتون اور بچے سمیت 14 افراد زخمی ہوچکے ہیں۔ اس علاقے میں اب تک 16 افراد ہلاک جبکہ خواتین اور بچوں سمیت تین درجن سے زائد زخمی ہوچکے ہیں۔ اورنگی ٹاوٴن، علی گڑھ کالونی، قصبہ کالونی، بخاری کالونی، مسلم آباد کٹی پہاڑی اور آس پاس کی آبادی میں تین دن سے زندگی مفلوج ہوکر رہ گئی ہے۔ متعدد گھروں کو نذر آتش کیا جاچکا ہے اور شہریوں کی املاک تباہ ہوچکی ہیں۔ دو گروپوں کے مابین لڑائی بلدیہ ٹاوٴن، رشید آباد اور کئی دیگر علاقوں تک پھیل چکی ہے۔ گذشتہ رات بلدیہ ٹاوٴن نمبر4،5،6 میں شدید فائرنگ کا سلسلہ جاری رہا۔ جس سے متعدد افراد زخمی ہوئے۔ پولیس اور رینجرز کے گشت کے باوجود مسلح گروپوں کے مابین آج دوپہر پھر فائرنگ جاری رہی۔ جس کے نتیجے میں سیکٹر 19 سی میں گولیاں لگنے سے 30 سالہ شارک علی اور ماری پور روڈ پر شہاب الدین ہلا ک ہوگیا۔ جبکہ اس علاقے میں ایک گھراور بلدیہ ٹاوٴن آفس پر دستی بموں سے حملے کئے گئے ہیں۔ علاقے میں کاروبار اور ٹرانسپورٹ متاثر ہوئی ہے۔ جبکہ شہریوں کی بڑی تعداد متاثرہ علاقوں سے نکل مکانی کرنے پر مجبور ہے۔ شہر کے دیگر علاقوں میں بھی ٹارگٹ کلنگ اور فائرنگ کا سلسلہ تھم نہ سکا۔ ملیر کے علاقے میمن گوٹھ میں زاہد علی کو گھر سے بلوا کر فائرنگ سے ہلاک کیا گیا۔ گذشتہ رات گارڈن، گلستان جوہر، سرجانی ٹاوٴن، شاہ فیصل کالونی سمیت مختلف علاقوں میں فائرنگ سے ہلاکتوں اور شہریوں کے زخمی ہونے کے واقعات کے بعد سے کشیدگی ہے۔ پولیس اور رینجرز کی بھاری نفری تعینات ہونے کے باوجود بدامنی کے خلاف کوئی موثر کارروائی نہیں کی جارہی۔