7 جولائی 2011
وقت اشاعت: 18:53
کراچی: موت کا رقص، فائرنگ، بسوں پر حملے، 25افراد جاں بحق
جنگ نیوز -
کراچی…کراچی میں تین دن سے جاری پرتشدد کارروائیوں میں تیزی آگئی ہے۔ مختلف علاقوں مسافر بسوں پر حملوں سمیت دہشت گردی کے تازہ واقعات میں پانچ سالہ معصوم بچی سمیت 25 افراد ہلاک جبکہ خواتین اور بچوں سمیت درجنوں افراد زخمی ہوگئے۔ منگل سے جاری بد امنی میں ہلاکتوں کی تعداد 63 ہوگئی ہے۔ کراچی کے علاقے قصبہ کالونی میں منگل کو اچانک فائرنگ کا سلسلہ شروع ہواجو اورنگی ٹاوٴن، کٹی پہاڑی اور قصبہ کالونی میں دو گروپوں کے مابین خونیں لڑائی میں تبدیل ہو گیا۔ مورچہ بند فائرنگ، گھروں پر حملوں اور جلاوٴ گھیراوٴ آج تیسرے روز بھی جاری رہا جہاں وقفے وقفے سے دن بھرفائرنگ جاری رہی جس کے نتیجے میں 5 سالہ بچی لائبہ گل، 25 سالہ ذوہیب علی، زاہد علی، تنویراحمد اور عالم گیر ہلاک ہوئے جبکہ ایک خاتون اور بچوں سمیت دو درجن افراد زخمی ہوئے۔اورنگی ٹاوٴن، علی گڑھ کالونی، قصبہ کالونی، بخاری کالونی، مسلم آباد، کٹی پہاڑی اور آس پاس کی اس آبادی میں تین دن سے زندگی مفلوج ہے۔ متعدد گھروں دکانوں اور املاک کوجلایاجاچکا ہے۔ دن بھر فائرنگ کے بعد مسلح افراد نے شام کو اچانک مسافر گاڑیوں کو نشابہ بنانا شروع کردیا۔ مسلح افراد نے میٹرو سینما کے قریب ایک مسافر کوچ پر اندھا دھند فائرنگ کی جس کے نتیجے میں تین افراد ہلاک 8 زخمی ہوگئے۔ بنارس پل کے قریب دو بسوں پر فائرنگ کی گئی جس کے نتیجے میں سات افراد موت کا شکار جبکہ 15 زخمی ہوگئے۔ سائٹ میں بھی ایک بس کونشانہ بنایاگیاجس کے نتیجے میں دو مسافرزخمی ہوگئے۔ عین اس وقت اورنگی ٹاوٴن کے علاقے ہریانہ کالونی میں بھی دہشت گردوں نے اندھا دھند فائرنگ کی جس کے نتیجے میں تین افراد ہلاک متعدد زخمی ہوئے اورگلفام آباد، سائٹ، شیرشاہ، نارتھ ناظم آباد، نارتھ کراچی، شاہ فیصل کالونی، ملیر اور شہر کے دیگر علاقوں میں بھی فائرنگ کی زد میں آگئے،لڑائی کے اثرات بلدیہ ٹاوٴن، رشید آباد اور کئی دیگر علاقوں میں بھی محسوس کئے گئے۔ بلدیہ میں گھروں، نجی املاک اور بلدیہ ٹاوٴن آفس پر دستی بموں سے حملے بھی کئے گئے۔ بدامنی کے شکار علاقوں سے شہریوں کی بڑی تعداد نکل مکانی کرنے پر مجبور ہے،پولیس اور رینجرز کی بھاری نفری تعینات ہونے کے باوجود امن و امان کیلئے کوئی موثر کارروائی نہیں کی جارہی ہے۔