10 جولائی 2011
وقت اشاعت: 6:57
معروف کالم نویس عرفان صدیقی کی کتاب ’مکہ مدینہ ‘کی جاپان میں تقریب رونمائی
جنگ نیوز -
ٹوکیو…عرفان صدیقی…روزنامہ جنگ سے تعلق رکھنے والے معروف دانشور وسینئر کالم نویس کی تحریر کردہ کتاب مکہ مدینہ کی تقریب رونمائی گزشتہ روز جاپان کے شہر سائی تامہ میں کی گئی جس میں صحافیوں کے علاوہ پاکستان اور جاپان سے تعلق رکھنے والی معروف سیاسی وسماجی شخصیات نے شرکت کی ،تقریب سے خطاب کرتے ہوئے عرفان صدیقی نے کہا کہ اس کتاب میں وہ تمام احساسات اور جذبات موجود ہیں جو کسی بھی مسلمان کے دین اسلام کے عظیم شہروں مکہ اور مدینہ میں جاکر ہوسکتے ہیں ، عرفان صدیقی نے کہا کہ حجاز مقدس کا پہلا سفر اپنے والدین کے ساتھ بتیس برس قبل کیا اور اس کے بعد کئی دفعہ حج و عمرے کے لئے مکہ اور مدینہ تشریف لے جاچکے ہیں اور ہر بار جو سکون قلب میسر آیا اسکو الفاظ کی شکل دینے کی کوشش اس کتاب کے زریعے کی گئی ہے ، عرفان صدیقی نے اپنے خطاب میں کہا کہ چند برس قبل جب ایک بار پھر عمرے کا ارادہ کیا تو امریکہ کے سفر سمیت کئی اہم رہنماؤں کی جانب سے ملاقاتوں کی خواہش نے عمرے کے سفر کی تاریخوں آگے پیچھے کرنے کا سبب بنیں تاہم انھوں نے سب خواہشوں کو بالائے طاق رکھ کر عمرہ کرنے کو ترجیح دی جس کے بعد اللہ تعالیٰ نے سارے کام بہتر اسلوب سے مکمل کرائے جس سے اللہ تعالیٰ پر یقین پختہ ہوتا چلا گیا ، عرفان صدیقی نے کہا کہ اس کتاب میں وہ تمام ذاتی تجربات تحریر ہیں جو عمرہ اور حج پر جانے سے پہلے اور وہاں سے واپس آنے کے بعد پیش آئے ، عرفان صدیقی نے کہا کہ یہ کتاب کوئی بناوٹی تحریر نہیں بلکہ انکے دل کی آواز ہے جو حقیقی صورت میں قارئین کے لیئے پیش کردی گئی ہے اور یہی وجہ ہے کہ اس کتاب کا نام مکہ مدینہ رکھا گیا ہے ، اپنے خطاب کے آخر میں عرفان صدیقی نے تقریب کے میزبان ملک ریاض ،سمیت شیخ قیصر ،ملک نور اعوان اور چوہدری ظفر اقبال کا شکریہ بھی ادا کیا، اپنے دورہ جاپان کا ذکر کرتے ہوئے عرفان صدیقی نے کہا کہ جاپان آنے کا تجربہ انتہائی شاندار رہا ،جس قدر محبت لوگوں سے ملی اس کا اندازہ نہیں تھا ،انھوں نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے جن مسائل کا انھوں نے مشاہدہ کیا ہے ان کو وہ اپنی تحریروں میں اجاگر کریں گے، اس سے قبل صحافیوں کی معروف تنظیم جاپان انٹرنیشنل پریس کلب نے معروف تجزیہ نگار ودانشور عرفان صدیقی کے اعزاز میں خصوصی تقریب کا اہتمام کیا جس میں عرفان صدیقی کو انکی صحافتی خدمات کے اعتراف میں خصوصی ایوارڈ بھی پیش کیا گیا جبکہ تقریب میں پاکستانی و بین الاقوامی صحافیوں کی بڑی تعداد موجود تھی جبکہ کئی سیاسی و مذہبی اور سماجی تنظیموں کے نمائندوں نے بھی خاص طور پر شرکت کی ،جبکہ تقریب میں پاکستان کے معروف اداکار تنویر جمال نے بھی خصوصی طور پر شرکت کی اور عرفان صدیقی کو انکی تحریروں پر خراج تحسین پیش کیا۔