14 جولائی 2011
وقت اشاعت: 17:18
کراچی: ہڑتالوں سے حکومت کو ریونیو کی مد میں20 ارب روپے کا نقصان
جنگ نیوز -
کراچی...کراچی میں ہڑتالوں کی وجہ سے حکومت کو ریونیو کی مدمیں بیس ارب روپے کا نقصان اٹھانا پڑا ہے۔اعدادوشمار کے مطابق کراچی میں ہڑتالوں کا سلسلہ رواں سال11 مارچ سے شروع ہوا جب حکمراں پارٹی پیپلز پارٹی نے سپریم کورٹ کے فیصلے کیخلاف احتجاج کی کال دی جو ہڑتال میں تبدیل ہوگئی۔ اس کے بعد چار اپریل کوسابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کی برسی کے موقع پر شہر میں کاروباری سرگرمیاں مفلوج رہیں جبکہ اس کے اگلے ہی دن کراچی تاجر اتحاد کی اپیل پر بجلی کی بڑھتی ہوئی لوڈشیڈنگ کیخلاف ہڑتال کی گئی۔ متحدہ قومی مومنٹ کی جانب سے پہلی ہڑتال کی کال تین مئی 2011 کو دی گئی جس کے بعدہڑتالوں کا ایک نہ ختم ہونیوالا سلسلہ شروع ہوگیاجو اب تک وقفہ وقفہ سے جاری ہے۔ مارچ کا مہینہ حکومت کے اقتدار کا مہینہ بھی ہے اس لیے کراچی میں اس مہینے سے شروع ہونیوالی ہڑتال کو تجزیہ کار حکومت کیلئے مستقبل میں بھی ایک بڑ ا چیلنج قرار دے رہے ہیں۔ کراچی میں جنوری سے چودہ جولائی تک 8 ہڑتالیں کی گئی جس سے حکومت کو ریونیو کی مد میں مجموعی طور پر بیس ارب روپے کا نقصان اٹھانا پڑا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق متحدہ قومی مومنٹ کی حکومت سے علیحدگی کے بعد سے کراچی میں ہڑتالوں کا جو آغاز ہوا ہے وہ طول پکڑتا جارہا ہے۔ کبھی لوڈ شیڈنگ اور کبھی سیاسی کارکنوں کی ہلاکت پر ہڑتال کی جاتی ہے جس سے شہر کی کاروباری سرگرمیاں مفلوج اور رونقیں ماند پڑگئی ہیں اور اب تو کاروباری افراد بھی ان ہڑتالوں کو جمہوری حکومت کے لیے فائنل راؤنڈ قرار دے رہے ہیں جس کے نتائج کا انتظار پوری قوم کررہی ہے۔