15 جولائی 2011
وقت اشاعت: 10:58
امریکاایران کے ساتھ حالتِ جنگ میں ہے،امریکی اخبار
جنگ نیوز -
کراچی…رفیق مانگٹ…امریکی اخبار’واشنگٹن ٹائمز‘ نے اپنے اداریئے میں لکھا ہے کہ وائٹ ہاوٴس نے تصدیق کی ہے کہ امریکاایران کے ساتھ حالت جنگ میں ہے۔ امریکا ایران کے ساتھ ایک خطرناک جنگ میں ہے لیکن اس کا واضح اعلان نہیں کیا۔ اوباما انتظامیہ کے دو اعلیٰ دفاعی حکام نے ایران کے متعلق واضح کیا کہ ایران ان عسکریت پسند گروپوں کی سرپرستی کر رہا ہے جوسمندر پار امریکی فوجیوں کے خلاف برسر پیکار ہیں۔ صدر اوباما کے عہدیدار امریکی فوجیوں کی ہلاکت میں تہران کے ملوث ہونے کی مذمت کرتے ہیں۔عراق کے دورے پر نئے امریکی وزیر دفاع لیون پنٹا نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ عراق میں بڑھتی ہوئی پر تشدد کارروائیوں میں شیعہ ملیشیا گروپ ملوث ہیں اور ان کی ایران حمایت کر رہا ہے جن کی وزیر دفاع نے سخت مذمت کی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ایران کا انتہاپسندوں کو ہتھیارفراہم کرنے پر ہمیں سخت تشویش ہے۔ امریکا ایران کی ان اشتعال انگیزیوں کے خلاف کارروائی کرے گا۔ان کا کہنا تھا کہ ہم اس صورت حال پر خاموش نہیں بیٹھ سکتے اور نہ ہم ایسا کرنے کی ایران کو اجازت دیں گے۔گزشتہ ہفتے جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین ایڈمرل مائیک ملن نے عسکریت پسندوں کے لئے ایران کی حمایت پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔ انہوں نے پینٹا گون کے پریس ایسوسی ایشن کو بتایا کہ ایران براہ راست انتہا پسند شیعہ گروپوں کی حمایت کر رہا ہے جو امریکی فوجیوں کو مار رہے ہیں۔ عسکریت پسندوں کی ایرانی حمایت کا مسئلہ شاذ و نادر ہی اس سے قبل امریکی اعلیٰ حکام نے اس سطح پر اٹھایا ہے۔ اخبار کہتا ہے کہ ویت نام جنگ کے خاتمے کے بعد کسی بھی دوسرے ملک سے زیادہ امریکا کے فوجیوں کی ہلاکت میں ایران براہ راست یا بلاواسطہ طور پر ذمہ دار ہے۔ کچھ سالوں سے ایران نے عراق اور افغانستان میں عسکریت پسندوں کوہتھیار اور دیگر امداد فراہم کی ہے۔ حالیہ امریکی محکمہ خارجہ کی رپورٹ کے مطابق ایران بین الاقوامی دہشت گرد ریاستوں کی حمایت کرتا ہے۔ ایران القدس فورسز افغانستان میں طالبان کی ٹریننگ کر رہی ہیں۔ چھوٹے یونٹ کی حکمت عملی ، ہتھیار ، دھماکہ خیز مواد اور بالواسطہ ہتھیاروں کے استعمال کی تربیت دے رہی ہے۔ 2006سے ایران نے مخصوص طالبان کو ہتھیاروں اور متعلقہ گولہ بارود کی ترسیل جاری رکھی ہوئی ہے جس میں راکٹ پروپیلڈ گرینیڈ ، مارٹر راوٴنڈ ، 107 ایم ایم راکٹ اور پلاسٹک دھماکہ خیز مواد شامل ہے۔ اخبار نے لندن کے سنڈے ٹائمز میں 2010 میں شائع ایک رپورٹ کے حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایرانی کمپنیاں افغانستان میں طالبان جنگجوکو ماہانہ تنخواہ233 ڈالر دیتی ہیں اس کے ساتھ امریکی فوجیوں کے قتل کے لئے ایک ہزار ڈالر اور امریکی دفاعی گاڑیوں کو دھماکے سے اڑانے کا چھ ہزار ڈالر بونس ادا کرتی ہیں۔