18 جولائی 2011
وقت اشاعت: 8:49
غربت اور بے حسی،اوباڑو کی غریب لڑکی زندگی کی بازی ہار گئی
جنگ نیوز -
اوباڑو.. . .... . غربت کے ساتھ بے حسی بھی شامل ہو جائے تو پھر خون کے رشتے بھی بے معنی ہو جاتے ہیں۔اوباڑو میں علاج کی سکت نہ رکھنے پرگھر سے نکالی جانے وای لڑکی سسک سسک کر جاں بحق ہو گئی۔ غربت اور مہنگائی اس قدر بڑھ چکی ہے کہ غریب دو وقت کی روٹی کے لیے پریشان ہیں اور اگر ایسے میں کوئی موذی بیماری لگ جائے تو خون کے رشتے بھی ساتھ چھوڑ دیتے ہیں۔ گھوٹکی کے شہر ڈہرکی کی ایک پندرہ سالہ لڑکی شہزادی سموں زخموں سے چور جلد اور پیٹ کے مرض میں مبتلا زندگی اور موت کی کشمکش میں آخری سانسیں لے رہی تھی جسے اسکے باپ کے انتقال اور ماں کی دوسری شادی کے بعد آخری سہارے بھائیوں نے غربت سے تنگ آکر مارپیٹ کے بعد گھر سے نکال دیاتھا۔ شہزادی جامع مسجد اوباڑو کے قریب ایک مارکیٹ میں گزشتہ تین ماہ سے چوکیدار کی بینچ پر زندگی گزار رہی تھی۔ جس کی بے بسی کی رپورٹ جیو نیوز نے تین جولائی کو نشر کی تھی شہزادی نے بتایا تھا کہ وہ سخت تکلیف میں بے یارو مدد گارہے اسکا اعلاج کرایا جائے مگر حکومت معاشرے اور ورثہ کی بے حسی کے باعث زخمون کی تاب نہ لاکر آج پندرہ سالہ معصوم شہزادی پندرہ روزبعد اسی چوکیدار کی بینچ پرجاں بحق ہو گئی ہے۔ آج شہزادی ہم میں نہیں۔لیکن مین چوک اوباڑو پر پڑی یہ لاش حکومت وقت معاشرے انتظامیہ اور ہیومن رائیٹس کی علمبردار تنظیموں کے لئے سوالیہ نشان بن گئی ہے؟؟