20 جولائی 2011
وقت اشاعت: 7:23
بھارت سخت جوہری قوانین کا جائز ہ لے،ہیلری کلنٹن
جنگ نیوز -
کراچی.. . . .. رفیق مانگٹ… امریکی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن نے بھارت پر زور دیا کہ وہ سخت جوہری قوانین کا جائزہ لے،بھارت میں دیگر ممالک کی نسبت جوہری توانائی کے قوانین زیادہ سخت ہیں،ان سخت قوانین کی وجہ سے بھارت کو جوہری ٹیکنالوجی کی فراہمی پر پابندی کے خاتمے کے باوجود امریکا بھارت کو نئے ری ایکٹر فروخت کرنے میں ناکا رہا ہے ۔ فرانسیسی خبر رساں ادار ے کے مطابق امریکی حکام کا کہنا ہے کہ بھارت کے ساتھ سیکورٹی تعاون میں اضافے کا وسیع امکان ہے، جس میں دہشت گردی کے نیٹ ورک اور میری ٹائم سیکورٹی پر انٹیلی جنس کا اشتراک شامل ہے ۔فرانس اور روس نے بھارت کو نیوکلیئر ری ایکٹر فروخت کرنے کے معاہدے کیے ہیں لیکن امریکا کی نجی کمپنیاں سخت قانون سازی کی وجہ سے بھارت میں ایسے معاہدے کرنے میں ناکام رہیں۔ امریکا کو اپریل میں اس وقت سخت دھچکا لگا جب حالیہ سالوں میں بھارت کے ساتھ کی گئی12ارب ڈالر کے126ائیر کرافٹ کی ڈیل ختم ہوئی،امریکا نے1974سے بھارت کو ایٹمی ٹیکنالوجی کی فراہمی پر پابندی عائد کی ہوئی تھی جسے 2008میں اٹھا لیا گیاتھا ،تاہم اس پابندی کے خاتمے کے باوجود امریکا بھارت کونئے ری ایکٹر دینے میں ناکام رہا۔ برطانو ی خبر رساں ادارے کے مطابق ہیلری کلنٹن نے بھارت پر زور دیا کہ وہ اس قانون میں ترمیم کریں جس کی وجہ سے حادثات کی صورت میں ذمہ داری کے خدشات پر امریکی کمپنیاں 150 ارب ڈالر (93 ارب پاوٴنڈ) جوہری توانائی کی مارکیٹ میں حصہ نہیں لے سکتی۔ انہوں نے کہا کہ امریکا بھارت کے سخت جوہری قانون سازی کا خاتمہ چاہتا ہے، حادثات کی صورت میں ذمہ داری سے آلات سازوں کو بچانے کے لئے قانون سازی کی سختی میں کمی کرے۔ بھارت میں دیگر ممالک کی نسبت قوانین زیادہ سخت ہیں ۔بھارت جوہری توانائی کے حصول کے لیے 150 ارب ڈالر خرچ کرنے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔امریکا کی جنرل الیکٹرک اور جاپان کی توشیبا کارپوریشن جیسی جوہری توانائی کمپنیاں بھارت کے جوہری توانائی مارکیٹ کو وسعت دینے میں کردار ادا کرنا چاہتی ہیں۔دونوں ممالک کے درمیان سرد جنگ کے خاتمے کے بعد سے تعلقات میں گرم جوشی دیکھنے میں آئی۔ سرد جنگ کے وقت بھارت سوویت یونین کے قریب تھا۔کلنٹن نے بھارتی رہنماوٴں کو پاکستان کے ساتھ تعلقات کے علاوہ فغانستان سے امریکی فوجوں کے انخلاء کے بارے آگاہ کیا۔جس کے بارے بھارت قبل از وقت افغانستان سے امریکی انخلاء پر تشویش کا شکا ر ہے ۔کلنٹن نے ایک بار پھر پاکستان پر زور دیا کہ وہ دہشت گردی کے سرگرم گروپوں سے نمٹنے کے لئے موٴثر اور فوری اقدامات کرے۔امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق بھارت اور امریکا میں کم ہوتی تجارت اور سرمایہ کاری میں رکاوٹوں کو ختم کرنے کے لیے مشترکا پالیسی اقدامات کے لیے اتحاد بنانے کی ضرورت ہے۔دونوں حکومتوں کو2008کے سول نیو کلیئر معاہدے پر عمل درآمد کے مسائل اور حائل رکاوٹوں کو دورکیا جائے۔